Thursday, May 21, 2026
ہومبریکنگ نیوزموسمیاتی تبدیلیوں کے ذمہ دار نہیں مگر شدید متاثرہیں، شہباز شریف

موسمیاتی تبدیلیوں کے ذمہ دار نہیں مگر شدید متاثرہیں، شہباز شریف

اسلام آباد (آئی پی ایس )وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بریتھ پاکستان کا مقصد موسمیاتی تبدیلی جیسے سنگین چیلنج پر غورکرنا ہے۔اسلام آباد میں جاری بریتھ پاکستان عالمی موسمیاتی کانفرنس کے دوسرے روز خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر تمام شراکت داروں کا مشکور ہوں۔شہباز شریف نے کہا کہ کانفرنس کا مقصد موسمیاتی تبدیلی جیسے سنگین چیلنج پر غورکرنا ہے، پاکستان کی کاربن کے اخراج کی شرح ایک فیصد سے کم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شدید سیلاب، گلیشیئرز کے تیز پگھلا، شدید گرمی کی لہر کا سامنا کرنا پڑتا ہے، 2 سال پہلے شدید سیلاب کی وجہ سے تباہی کا سامنا کرنا پڑا، پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ممالک میں شامل ہے۔قبل ازیں، احسن اقبال نے تجویز دی کہ اقوام متحدہ آلودگی پھیلانے والوں پر کسی نہ کسی طرح کا عالمی ماحولیاتی ٹیکس عائد کرے اور اس ٹیکس کی رقم سے ایک ایسا فنڈ ہونا چاہیے جو جنوب کے ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے مسائل سے نمٹنے میں مدد دے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھرکو موسمیاتی تبدیلی سے شدید خطرات لاحق ہیں، حکومت موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے مسائل پر خصوصی توجہ دے رہی ہے

، وفاقی وزارت منصوبہ بندی صوبوں کیساتھ ملکرپالیسی تشکیل دیتی ہے۔پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے اپنے کلیدی خطاب میں گزشتہ 12 ماہ کے دوران پنجاب کے آب و ہوا کے تجربات پر بات کی، انہوں نے جنوبی پنجاب میں شدید سیلاب، ہیٹ ویو، ہوا کے مضر صحت معیار اور پانی کی قلت پر بات کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں پنجاب بھر میں آب و ہوا کی لچک کے لیے ایک جامع، مربوط اور کثیر الجہتی نقطہ نظر اپنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب نے اپنی پہلی موسمیاتی پالیسی موافقت اور تخفیف کو مدنظر رکھ کر مرتب کی ہے ،

ماحولیاتی انصاف اس پالیسی کا مرکزی نکتہ ہے، اسموگ کے خاتمے کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ پنجاب بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے منصوبوں کے لیے 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ بات چیت شروع کر دی ہے اور وزارت خارجہ کو خط لکھا ہے کہ وہ خطے کے ان ممالک کے ساتھ بات چیت شروع کرے جن کا فضائی معیار پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔