اسلام آباد: اکمل بھٹی چیئر مین مینارٹیز الائنس پاکستان نے کہا ہے کہ آئین پاکستان سب شہریوں کو برابری کا حق دیتا ہے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے آئین کی شقوں میں ترامیم کی ضرورر ہے۔ فرحت اللہ بابر رہنما پاکستان پلپلز پارٹیاقلیتوں کے لیے سینٹ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں میں اضافہ ناگزیر ہے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 25 بنیادی انسانی حقوق کو برابری کا حق دیتا ہے، ایک طرف آئین سب کو برابری کا حق دیتا ہے مگر دوسری طرف یہی آئین غیر مسلم کو پاکستان کا صدر اور وزیراعظم بننے کی راہ میں رکاوٹ ہے،
یہ آئین کے ساتھ ایک فراڈ ہے، اقلیتوں کے گھروں اور عبادت گاہوں پر حملے بڑھ گئے ہیں ریاست کا کام ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کرے، جبری تبدیلی مذہب اور توہین مذہب کے قوانین پر نظر ثانی کی ضرورت ہے سینٹ کی اس حوالے سے 2018 کی رپورٹ پر عمل درآمد کیا جائے،پاکستان کا قیام بذات خود اقلیتوں کی جدوجہد تھی کیونکہ اس وقت مسلمان برصغیر میں اقلیت میں تھے،1947 کی قرارداد میں صوبائی خود مختاری اور اقلیتوںکے حقوق کا تحفظ بنیادی نقاط تھے،صوبائی خود مختاری کی مہم اتار چڑھاو کے باوجود آگے بڑھتی رہی اور یہ مطالبہ اٹھارویں ترمیم کیذریعے تسلیم ہو گیا مگربدقسمتی سے اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کانعرہ آگے نہ بڑھ سکااور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ صحیح سمت میں نہ جاسکا اور جتنی بھی ترامیم آئیں ان میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ نہ کیا جاسکا، آئین کی ان شقوں میں ترامیم کی ضرورت ہے یہ کام آسان نہیں ہے آپ اپنا نمائندہ خود منتخب نہیں کر سکتے اس لیے آپ کی آواز اوپر تک نہیں جاتی پارلیمان کے ذریعے ایک کمیشن بننا چاہیے
جو گذشتہ نو سال سے نہیں بن سکا،اس سے آپ کی آواز موثر ہو گی،انہوں نے ان خیالات کا اظہار مینارٹیز الائنس پاکستان کیزیر اہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آبادمیں آئین پاکستان اور مذہیبی اقلیتیں کے عنوان سے منعقدہ سیمینار ے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر مینارٹیز الائنس پاکستان کے چیئرمین اکمل بھٹی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ان تمام اداروں،قوتوں کی آئین شکنی،آئین کی پامالی،اور اس آئین شکنی پر انہیں غیر آئینی طریقے سے تحفظ دینے والوں کی شدید مذمت اور ان تمام سیاسی جماعتوں ، عدلیہ سمیت تمام دیگر اداروں کو سراہتے ہیں جنہوں نے آئین کے تحفظ کیلئے قربانیاں دیں اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں،،دستور پاکستان بنیادی انسانی حقوق کا ضامن ہے،آئین پاکستان میں اقلیتوں کو برابرو یکساں حقوق دینے کیلئے اس میں ترامیم کی جائیں تاکہ اسے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کیعالمی اعلامییکے مطابق بنایا جاسکے،انہوں نییمزید کہاکہ اقلیتوں کا جینا مرنا پاکستان کیساتھ ہے،صدر،وزیراعظم اور دیگر بڑے آئینی عہدوں پر اقلیتوں کے فائز ہونے کی راہ میں رکاوٹیں موجود ہیں
جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے،اقلیتوں کیلئے سینٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں میں نشستوں کی تعداد میں اضافہ ناگزیر ہے،حکومت اقلیتوں کے مسائل کے حل کیلئے سنجیدگی کیساتھ اقدامات کرے،سیمینار میں آئین مین ترامیم کیلئے تجاویز بھی پیش کی گئیں اور اس حوالے سے ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کی گئی، سیمینار سے میپ کے وائس چیئرمین شمعون گل، مرکزی راہنما ندیم بھٹی، تلوندر سنگھ، عبدالحمیدرانا ایڈووکیٹ، سہیل رومی، انوش بھٹی، فیاض بھٹی آصف جان و دیگر نے بھی خطاب کیا۔
