اسلام آباد(ایڈیٹر انویسٹی گیشن )کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)کے ممبر اسٹیٹ محمد زمان وٹو نے سب نیوز کی خبر پر ایکشن لیتے ہوئے شاملاتی اراضی کے عوض پلاٹس کی مبینہ غیر قانونی الاٹمنٹ کے معاملے کا سخت نوٹس لے لیا ہے۔ممبر اسٹیٹ نے سیکٹر ڈی13، ای13 اور ایف13میں شاملاتی اراضی کے عوض الاٹ کیے گئے پلاٹس کی مکمل تفصیلات اور ریکارڈ طلب کرتے ہوئے معاملے کی انکوائری کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔
جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ایسی شاملاتی اراضی کے عوض پلاٹس الاٹ کیے جانے کی اطلاعات ہیں جو تاحال سی ڈی اے نے حاصل نہیں کیں، لہذا معاملے کی فوری اور مکمل جانچ پڑتال ضروری ہے۔متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ تمام الاٹ کیے گئے پلاٹس، مستفید افراد اور اس زمین کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں جس کے عوض یہ الاٹمنٹس کی گئیں۔ممبر اسٹیٹ نے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے 3ستمبر 2026 کو اجلاس بھی طلب کر لیا ہے اور متعلقہ افسران کو مکمل ریکارڈ اور فائلوں سمیت پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ سب نیوز نے یہ خبر دی تھی کہ ماضی بعید میں چند ڈیلرز نے سی ڈی اے کے پٹواری اور گرداور کیساتھ ملکر درج بالا موضعہ جات کی شاملاتی زمین خرید کر پلاٹس کی فائلز فروخت کی تھیں اس انکشاف کے بعد سابق چیئرمین سی ڈی اے نور الامین مینگل نے تمام شاملاتی زمین کو تمام متعلقہ موضع کے متاثرین میں تقسیم کا آرڈر جاری کیا تھا جس کے بعد مخصوص شاملاتی گروپ نے ہر بار کوشش کی کہ ڈی تیرہ ، ای تیرہ اور ایف تیرہ کی بیلٹنگ نا ہو سکے اور اگر درج بالا بیلٹنگ کرنا مقصود ہو تو شاملاتی زمین کو شامل کیا جائے سابق ڈپٹی کمشنر و ڈائریکٹر لینڈ اور ڈپٹی ڈائریکٹر لینڈ کی جانب سے شاملاتی زمین شامل نا کرنے کے بعد شاملاتی گروپ نے ممبر اسٹیٹ کو ورغلانا شروع کر دیا جس کے بعد ڈی تیرہ ، ای تیرہ اور ایف تیرہ کی دوسری قرعہ اندازی کو روکوا دیا گیا تاہم شاملاتی گروپ نے جن افراد کو پلاٹس کی فائلز بیچ رکھی ہیں ان کی جانب سے شاملاتی گروپ پر شدید دباو ہے جس کی وجہ سے شاملاتی گروپ اپنے خریداروں کو چکمہ دینے کے لیے سی ڈی اے ممبر اسٹیٹ اور دیگر کو متعلقہ سیکٹرز کی قرعہ اندازی روکوانے میں کوشاں ہیں جبکہ شاملاتی گروپ کے سفارشیوں کی خواہش ہے کہ شاملاتی زمین کی فائلز پر کس طرح الاٹمنٹ کی جائے۔
