اسلام آباد (آئی پی ایس )قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نواز کی زیر صدارت جاری ہے۔کمیٹی رکن آغا رفیع اللہ نے اسلام آباد میں متعدد آبادیوں پر سی ڈی اے ایکشن کا معاملہ اٹھایا، آغا رفیع اللہ نے سوال کیا کہ جن لوگوں نے ان آبادیوں کو آباد کروایا، ان افسران کے خلاف کیا کارروائی ہوئی، بتایا جائے۔وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔رکن کمیٹی رعنا انصر نے کہا کہ بلوچستان کے حالات کے حوالے سے کمیٹی نے کہا کہ اراکین کو بلوچستان لے کر جایا جائے گا
، وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ بلوچستان میں داخلہ کمیٹی کے اراکین کو لے جانے پر تیار ہیں، بلوچستان سے 200 لوگوں کو بلایا گیا، ان کے ساتھ تمام اسٹیک ہولڈرز کی بات ہوئی، پہلے ان لوگوں نے جو ملاقاتیں کی ہیں، ان کی رپورٹ دیکھ لیں۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے خصوصی طور پر ہدایت کی ہے کہ جو بھی وسائل چاہئیں، سیکیورٹی فورسز کو دیے جائیں۔اجلاس میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ بل 2025 پر بحث کا آغاز ہوا، آغا رفیع اللہ نے کہا کہ یہ بتایا جائے حکومت مقامی حکومتوں کا الیکشن کروانا چاہتی ہے یا نہیں، اگر آپ نے صرف الیکشن کمیشن کو ماموں بنانا ہے تو ہم اس میں شامل نہیں، پورے ملک میں نئے صوبوں کی بات کررہے ہیں، لیکن ایک اسلام آباد کا علاقہ سنبھل نہیں رہا۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اسلام آباد ایک صوبہ ہے، اس کی الگ اسمبلی ہونی چاہیے، راجہ خرم نواز نے کہاکہ اسلام آباد کی حلقہ بندیاں ہوچکی ہیں، یو سیز بن گئی ہیں۔رکن کمیٹی عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ آپ نے مقامی حکومتوں کا الیکشن نہ اسلام آباد میں کروانا ہے نہ پنجاب میں، ۔ یہ بتائیں اسلام آباد اگر صوبہ بن جاتا ہے تو اس کے پاس اختیارات کیا ہوں گے،۔ یہ آرڈیننس دو دن کے بعد ختم ہوجائے گا، آپ نے الیکشن نہیں کروانے، ہم اس بل پر آپ کے ساتھ نہیں ہیں، اسلام آباد میں زمینوں پر قبضے اور جعلی ہاسنگ سوسائٹیاں ہیں۔ طلال چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد، لاہور، کوئٹہ اور کراچی کی بات ہوگی تو پرفارمنس پر ہوگی، یہاں اسلام آباد میں تھانے نہیں بکتے، زمینوں کی چائنہ کٹنگ نہیں ہوتی، اسلام آباد کی پرفارمنس کا موازنہ کراچی، لاہور اور کوئٹہ سے کروانی ہے تو ہم حاضر ہیں۔
