شمالی وزیرستان(نیوزڈیسک)افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں بارودی سرنگ دھماکے میں کالعدم تحریک طالبان کے اہم کمانڈر عبد الولی عرف عمر خالد خراسانی 3 ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے ۔ذرائع کے مطابق دھماکا ضلع برمل کے علاقے سراکی کلی میں ہوا،مفتی حسن اور حافظ دولت بھی دھماکے میں ہلاک ہوئے، ذرائع کے مطابق عمر خالد خراسانی کا شمار ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈروں میں کیا جاتا تھا، عمر خالد خراسانی نے کابل میں پاکستان کے ساتھ حالیہ امن مذاکرات میں بھی حصہ لیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق تینوں عسکریت پسند افغانستان کے صوبے پکتیکا کے ضلع برمل میں سڑک کنارے بم کا نشانہ بنے ہیں۔
ہلاک ہونے والے دیگر عسکریت پسندوں میں عمر خالد خراسانی کے داماد، حافظ دولت اور مولوی حسن شامل ہیں۔
عمر خالد خراسانی کا اصلی نام عبدالولی تھا اور ان کے سر پر امریکی حکومت نے 30 لاکھ ڈالرز انعام کا بھی اعلان کر رکھا تھا۔
2014 میں ٹی ٹی پی سے علیحدگی کے بعد خالد عمر خراسانی سے جماعت الحرار بنائی تھی۔
ٹی ٹی پی سے علیحدگی اختیار کرنے بعد ان کے گروہ جماعت الاحرار نے متعدد حملوں کی ذمہ داریاں قبول کی جس میں 2014 میں واہگہ بارڈر بم دھماکا، 2015 میں لاہور کے علاقے یوحنا آباد میں دو بم دھماکے، لاہور میں 2016 میں ایسٹر کے موقع پر پارک میں دھماکہ اور 2017 میں مال روڈ پر احتجاج پر دھماکے سمیت دیگر حملے شامل ہیں۔
خالد خراسانی کا تعلق ضلع مومند سے تھا اور کہا جا رہا تھا کہ وہ پاکستانی طالبان کی مومند شاخ کا انچارج ہے۔
کالعدم ٹی ٹی پی کا اہم کمانڈرساتھیوں سمیت افغانستان میں ہلاک
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
