ہومکالم وبلاگزبلاگز‏تصویر ٹھیک کر لیجیئے۔۔۔۔۔ حصہ اول

‏تصویر ٹھیک کر لیجیئے۔۔۔۔۔ حصہ اول

تحریر: صابرحسین
‎@SabirHussain43
ایک شخص مطالعے میں مصروف تھا پاس ہی بچہ کھیل رہا تھا بچے نے جب شور مچانا شروع کیا تو باپ نے محبت سے کہا ” دیکھو بیٹا ہم پڑھ رہے ہیں شور نہ کرو بچہ خاموش ہو گیا لیکن زیادہ دیر بچہ خاموش نہ رہ سکا پھر بچے نے شور مچانا شروع کر دیا باپ کو ایک ترکیب سمجھ آئی اس نے میز سے ایک اخبار اٹھایا جس پر دنیا کا نقشہ بنا ہوا تھا باپ نے بیٹے کو سامنے بٹھا کر اخبار پر بنے نقشے کے بارے میں بتایا کہ بیٹا یہ دنیا کا نقشہ ہے اور اس میں پاکستان ہے یہاں سعودی عرب ، یہاں امریکہ یہاں ترکی ، یہاں ہمالیہ ہے بیٹا دیکھتا رہا اور جی میں جواب دیتا رہا پھر باپ نے اخبار کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے اور وہ ٹکڑے بچے کو دیکر کہا دوسرے کمرے میں جا کر نقشہ پھر سے بنا کر لے آؤ ، جب بچہ چلا گیا تو باپ نے سکون کا سانس لیا اور کہا کہ اب تین چار گھنٹے کیلئے شور مچانا ختم ہو گیا لیکن اس کی پریشانی کی اس وقت حد ہی نہیں رہی جب بچہ صرف تیس منٹ کے بعد دوڑتا ہوا آیا آ کر کہا ” ابو جی دنیا کا نقشہ بن گیا ” باپ نے نقشے پر نظر ماری پہاڑوں کے سلسلے ، دریاؤں کی گزرگاہ اور شہروں کے محل وقوع سب اپنے اپنے مقام پر بلکل ٹھیک تھے باپ نے پوچھا بیٹا یہ سب تم نے کیسے اتنی جلدی ٹھیک کرلیا بیٹے نے جواب دیا ابو جی یہ کام بہت آسان تھا باپ کی فکراوربڑھ گئی بیٹے نے کہا ابو جب آپ نے نقشے کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کیلئے اٹھایا تو میں نے دیکھا کہ اس نقشے کی دوسری طرف اتنی ہی بڑی انسان کی تصویر بنی ہوئی تھی بس میں نے تصویر کو جوڑ دیا نقشہ خود جڑگیا حقیقت یہ ہے کہ انسان جہاں کہیں بھی ہو اور جس قسم کی بھی اصلاح چاہتا ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اپنی اصلاح کرے اور اپنی ذات کی تنظیم کی طرف توجہ دے ہمارے گھروں ، ہمارے دفتروں کا ، ہمارے محلوں اور علاقوں ، ہمارے معاشرے کا اور زندگی کے جن معاملات سے ہمارا تعلق ہے وہاں کا نقشہ بگڑا ہوا ہے اس نقشے کی درستگی کیلئے ضروری ہے کہ ہم انسان کی تصویر کو ٹھیک کریں۔
یہ انسان کی تصویر در حقیقت ہماری اپنی تصویر ہے یہ بکھری ہوئی ہے اسے جوڑنا ضروری ہے ہم اپنے ماحول کی اصلاح اورحالات کی درستگی کی کوشش کرتے ہیں تاکہ نقشہ ٹھیک ہو جائے لیکن ہم کامیاب نہیں ہوتے گہرائی میں جاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ تصویربکھری ہوئی ہے۔
تصویر اس لئے بکھری ہوئی ہے کہ ہماری زندگی کا کوئی نصب العین نہیں ہے ، زندگی گزارنے اور زندگی حاصل کرنے کے لئے کوئی مقاصد متعین نہیں ہے ، ہمارے ارادے اور عزائم کمزور ہو چکے ہیں ، ہماری طبیعت میں سستی اور کاہلی آ گئی ہے ، ہمارے معاملات میں تساہل پیدا ہو گیا ہے ہم آج کے کام کل پر ٹالتے ہیں ، ہم پھر کبھی کا شکار ہیں ، فیصلوں میں اتنی دیرکرتے ہیں کہ بس نکل جاتی ہے ، ہم اتنے ڈرپوک ہو گئے ہیں کہ قسمت دروازے پر دستک دیتی ہے اور ہم اسے کھولتے تک نہیں ۔
درحقیقت ہماری زندگی میں سستی اور کاہلی آ گئی ہے اور ہم نے کل پر بھروسہ کیا ہوا ہے ہم نے یہ سوچ لیا ہے کہ نصب العین اور مقاصد کا تعین بھی کل کریں گے اور باقی سب کام بھی وقت آنے پر خود بخود ہو جائیں گے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔