تحریر:…….. غلام مصطفیٰ بھٹی
راولپنڈی کے کمیٹی چوک لنڈا بازار کی رونقیں اپنی جگہ، بازار کی چہل پہل اپنی جگہ، مگر اسی ہجوم میں ایک سوال ایسا ہے جس نے شہر کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔۔۔ حریم کہاں ہے؟صرف چھ سال کی ایک معصوم بچی، جو چند روز قبل اپنے گھر والوں کے ساتھ موجود تھی، اچانک لاپتہ ہوگئی۔ تین سے چار روز گزر چکے ہیں، مگر حریم کا کوئی حتمی سراغ نہیں مل سکا۔ ایک طرف والدین کی آنکھیں اپنی بیٹی کو تلاش کر رہی ہیں تو دوسری طرف پورا شہر اس سوال کا جواب چاہتا ہے کہ آخر ایک ننھی بچی مصروف ترین علاقے سے کہاں چلی گئی؟یہ صرف ایک گمشدگی نہیں، یہ ایک خاندان کے لیے قیامت سے کم نہیں۔
حریم کے اہلخانہ کے مطابق وہ رات کے وقت ایک دعوت سے واپس آ رہے تھے۔ کمیٹی چوک لنڈا بازار کے قریب جب گھر والے گاڑی میں بیٹھنے لگے تو اچانک معلوم ہوا کہ حریم ان کے ساتھ نہیں۔ چند لمحے پہلے تک جو بچی خاندان کے درمیان تھی، اچانک نظروں سے اوجھل ہوگئی۔اس کے بعد تلاش کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔ابتدائی طور پر خدشہ ظاہر کیا گیا کہ شاید حریم قریب موجود نالے میں گر گئی ہو۔ نالے اور اس کے اطراف میں تلاش کی گئی۔ پولیس اور ریسکیو ٹیموں نے بھی اپنی کوششیں کیں، لیکن تاحال کوئی ایسا حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ بچی نالے میں گری یا نہیں۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں سوالات مزید سنگین ہوجاتے ہیں۔
اگر حریم نالے میں گری تو اس کا سراغ کیوں نہیں ملا؟۔۔۔۔ اور اگر وہ نالے میں نہیں گری تو پھر گئی کہاں؟۔۔۔۔۔۔کیا اسے کسی نے اغوا کیا؟۔۔۔۔۔۔کیا وہ کسی راستے سے خود دور نکل گئی؟۔۔۔۔۔
کیا اس علاقے کی تمام سی سی ٹی وی فوٹیج مکمل طور پر حاصل کرکے ایک ایک لمحہ دیکھا گیا؟۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا حریم کے آخری معلوم مقام سے ممکنہ تمام راستوں کی نشاندہی کی گئی؟۔۔۔۔۔۔کیا بازار، گلیوں، دکانوں، نالے، قریبی آبادیوں اور دیگر ممکنہ مقامات کی دوبارہ تلاشی لی گئی؟۔۔یہ سوال صرف حریم کے والدین کے نہیں۔ یہ پورے شہر کے سوال ہیں۔
ایک چھ سالہ بچی کے لیے وقت محض گھڑی کی سوئیاں نہیں ہوتا۔ ہر گزرتا ہوا لمحہ تلاش کے امکانات کو متاثر کرسکتا ہے۔ اسی لیے ایسے واقعات میں فوری، مربوط اور جدید طریقہ کار کے ساتھ کارروائی ناگزیر ہوجاتی ہے۔حریم کے گھر کا تصور کیجیے۔
وہ گھر جہاں چند روز پہلے ایک ننھی بچی کی آوازیں گونجتی تھیں، آج وہاں خاموشی ہے۔ دروازے پر ہونے والی ہر آہٹ امید جگاتی ہے۔ فون کی ہر گھنٹی پر دل دھڑکتا ہے کہ شاید دوسری طرف سے کوئی یہ کہنے والا ہو کہ “حریم مل گئی ہے۔لیکن جب ایسا نہیں ہوتا تو امید پھر آنسو بن جاتی ہے۔
والدین کے لیے اس سے بڑھ کر اذیت شاید ہی کوئی ہو کہ ان کی اولاد ان کی آنکھوں کے سامنے سے غائب ہوجائے اور وہ یہ بھی نہ جان سکیں کہ ان کا بچہ اس وقت کہاں ہے، کس کے پاس ہے اور کس حال میں ہے۔یہاں ریاستی اداروں کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔
گمشدہ بچے کے معاملے میں صرف ایف آئی آر یا ابتدائی سرچ آپریشن کافی نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس، ریسکیو، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے ایک مربوط حکمت عملی کے تحت کام کریں۔ سی سی ٹی وی نیٹ ورک کا جامع جائزہ لیا جائے، بچی کے ممکنہ روٹس کا نقشہ تیار کیا جائے اور ہر اس مقام کو دوبارہ چیک کیا جائے جہاں سے کوئی سراغ ملنے کا امکان ہو۔
ساتھ ہی عوام سے بھی اپیل ہونی چاہیے کہ اگر کسی شخص کے پاس حریم کے بارے میں کوئی قابلِ اعتماد اطلاع موجود ہے تو وہ فوری طور پر متعلقہ اداروں تک پہنچائے۔لیکن اس سب کے درمیان ایک بات سب کو یاد رکھنی ہوگی۔۔ حریم کوئی خبر نہیں، ایک بچی ہے۔وہ کسی اعداد و شمار کا حصہ نہیں، وہ کسی خاندان کی دنیا ہے۔آج اس کے والدین اپنی بیٹی کی واپسی کے منتظر ہیں۔ کل کسی اور گھر کے ساتھ ایسا واقعہ پیش نہ آئے، اس کے لیے بھی ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہمارے شہروں میں بچوں کے تحفظ کے انتظامات کتنے مؤثر ہیں، بازاروں میں نگرانی کا نظام کتنا مضبوط ہے اور کسی بچے کے اچانک لاپتہ ہوجانے کی صورت میں اداروں کا ردعمل کتنا تیز ہے۔
حریم کی تلاش صرف ایک خاندان کا مسئلہ نہیں۔ یہ پورے معاشرے کا امتحان ہے۔ایک معصوم بچی کی گمشدگی نے ہمیں یہ یاد دلایا ہے کہ شہر جتنا بھی مصروف اور ترقی یافتہ کیوں نہ ہو، اگر اس کے کسی کونے میں ایک ماں اپنی بیٹی کی تلاش میں رو رہی ہو تو شہر کی تمام روشنیاں بے معنی ہوجاتی ہیں۔آج راولپنڈی کے سامنے ایک سوال کھڑا ہے۔۔۔۔۔
حریم کہاں ہے؟۔۔۔
اس سوال کا جواب ملنا ضروری ہے۔حریم کو تلاش کرنا صرف ایک بچی کو اس کے والدین تک واپس پہنچانا نہیں، بلکہ ایک خاندان کی ٹوٹی ہوئی دنیا کو دوبارہ آباد کرنا ہے۔اور شاید اس وقت حریم کے والدین کو دنیا کی کسی بڑی خبر، کسی اعلان یا کسی وعدے کی نہیں، صرف ایک خبر کی ضرورت ہے۔۔
“آپ کی حریم مل گئی ہے۔” دعا ہے کہ یہ خبر جلد آئے۔
