تحریر: چیانگ زیدونگ، چین کے سفیر برائے پاکستان
کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) کی 18ویں قومی کانگریس کے بعد سے جنرل سیکرٹری شی جن پنگ کی قیادت میں پارٹی کی مرکزی کمیٹی نے اس دور کے اہم سوال یعنی ایک طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والی مارکسی پارٹی کیسی ہونی چاہیے اور اسے کیسے مضبوط بنایا جائے، پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے نئے تصورات، نظریات اور حکمت عملیوں کا ایک سلسلہ پیش کیا، جس کے نتیجے میں شی جن پنگ کی پارٹی سازی سے متعلق فکر تشکیل پائی۔
شی جن پنگ کی فکر برائے پارٹی سازی، نئے عہد کے لیے چینی خصوصیات کے حامل سوشلزم سے متعلق شی جن پنگ کی فکر کا ایک اہم جزو ہے، جو پارٹی اور ریاست کو مضبوط بنانے کے حوالے سے عملی اور دور رس رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
اس فکر میں پارٹی سازی کے حوالے سے 14 بنیادی نکات واضح کیے گئے ہیں، جن میں چینی خصوصیات کے حامل سوشلزم کی امتیازی خصوصیت کے طور پر کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی قیادت کی پاسداری، پارٹی کی مرکزی کمیٹی کی مرکزی اور متحدہ قیادت کو برقرار رکھنا، پارٹی پر مکمل اور سخت نظم و ضبط کا اطلاق، پارٹی کے اصل مقصد اور بانی مشن سے وفادار رہنا، سیاسی طور پر پارٹی کو مضبوط بنانا، پارٹی کے اندر اتحاد اور قوت پیدا کرنا، مضبوط پارٹی کردار تشکیل دینا، مؤثر تنظیمی نظام کو بہتر بنانا، قومی احیا کی ذمہ داری اٹھانے کے اہل اعلیٰ صلاحیت کے حامل عہدیدار تیار کرنا، طرزِ عمل میں مسلسل بہتری، سخت نظم و ضبط، بدعنوانی کی روک تھام، نظام و ضوابط کے ذریعے پارٹی کی حکمرانی اور پارٹی کے اندر خود احتسابی کی سیاسی ذمہ داری پوری کرنا شامل ہیں۔
یہ 14 نکات نئے عہد میں پارٹی سازی کے حوالے سے جنرل سیکرٹری شی جن پنگ کے اہم اور رہنما نظریات و حکمت عملی کا جامع خلاصہ ہیں۔ یہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے لیے پارٹی کو مضبوط بنانے کی بنیادی رہنمائی فراہم کرتے ہیں اور دنیا بھر کی سیاسی جماعتوں کے لیے اپنی تنظیمی صلاحیت اور ریاستی حکمرانی کو بہتر بنانے کے حوالے سے چینی تجربے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
چین اور پاکستان آہنی دوستی اور ہر آزمائش پر پورا اترنے والی تزویراتی تعاون کی شراکت داری میں بندھے ہوئے ہیں۔ ہم پاکستان کے ساتھ پارٹی سازی اور حکمرانی کے شعبوں میں تبادلے اور باہمی سیکھنے کو مزید گہرا کرنے، عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی و ترقی کے لیے مل کر کام کرنے اور نئے عہد میں مزید قریبی چین پاکستان ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو تیز کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ہمیں عوام کو اولین ترجیح دینی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ چین پاکستان تعاون دونوں ممالک کے عوام کے لیے مزید فوائد کا باعث بنے۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا نے ہمیشہ عوامی مفاد کے لیے پارٹی کی تعمیر اور عوام کے لیے ریاستی اختیار استعمال کرنے کے اصول کو برقرار رکھا ہے۔ شی جن پنگ کی پارٹی سازی سے متعلق فکر میں پارٹی کے اصل مقصد اور بانی مشن سے وفادار رہنے پر خصوصی زور دیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد چینی عوام کے لیے خوشحالی اور چینی قوم کے قومی احیا کا حصول ہے۔
2012 میں جنرل سیکرٹری شی جن پنگ نے نشاندہی کی تھی کہ ہماری پارٹی مکمل طور پر عوام کی خدمت کے لیے وقف ہے اور بہتر زندگی کے لیے عوام کی خواہش ہی وہ مقصد ہے جس کے لیے ہم جدوجہد کرتے ہیں۔
عوام سے اس گہری وابستگی کی رہنمائی میں چین کی غربت کے خاتمے کی مہم کے دوران جنرل سیکرٹری شی جن پنگ نے ذاتی طور پر مثالی کردار ادا کیا۔ انہوں نے غربت کے خاتمے سے متعلق 50 سے زائد فیلڈ ریسرچ دورے کیے، جن کے دوران چین کے غربت سے سب سے زیادہ متاثرہ 14 خطوں کا احاطہ کیا گیا۔ جامع تحقیقات کی بنیاد پر انہوں نے ہدفی بنیادوں پر غربت کے خاتمے کا تصور پیش کیا اور اسے عملی جامہ پہنایا۔
ان کی قیادت میں چین نے غربت کے خاتمے کی تاریخی مہم میں کامیابی حاصل کی، ہر لحاظ سے ایک معتدل خوشحال معاشرہ قائم کیا اور قومی احیا کی پیش رفت اور چینی طرز کی جدیدکاری کے ذریعے ایک عظیم جدید سوشلسٹ ملک کی تعمیر کے نئے سفر کا آغاز کیا۔
کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی 18ویں قومی کانگریس کے بعد کے عملی تجربے نے مکمل طور پر ثابت کیا ہے کہ پارٹی اور ملک کے معاملات میں حاصل ہونے والی تاریخی کامیابیاں اور بنیادی تبدیلیاں کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے مرکز کی حیثیت سے جنرل سیکرٹری شی جن پنگ کی مستقل رہنمائی اور شی جن پنگ کی فکر برائے نئے عہد کے چینی خصوصیات کے حامل سوشلزم کی سائنسی رہنمائی کا نتیجہ ہیں۔
جنرل سیکرٹری شی جن پنگ اور پارٹی کی مرکزی کمیٹی کی مضبوط قیادت میں کمیونسٹ پارٹی کی دیہی سطح کی تنظیموں کے 30 لاکھ سے زائد فرسٹ سیکرٹریز اور دیہی عہدیداروں، تقریباً 20 لاکھ ٹاؤن شپ عہدیداروں اور لاکھوں دیہی عہدیداروں نے مطلق غربت کے خاتمے کے لیے متحد ہو کر کام کیا۔
یہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی بڑے اہداف کے حصول کے لیے وسائل کو متحرک کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے اور شی جن پنگ کی پارٹی سازی سے متعلق فکر کے دو بنیادی اصولوں کی عکاسی کرتا ہے: چینی خصوصیات کے حامل سوشلزم کی امتیازی خصوصیت کے طور پر کمیونسٹ پارٹی کی قیادت کو برقرار رکھنا اور پارٹی کی مرکزی کمیٹی کی مرکزی و متحدہ قیادت کی پاسداری کرنا۔
یہی وجہ ہے کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا عوام کو ہمیشہ اولین ترجیح دیتی ہے اور عوام کی فلاح و بہبود کو اپنی سب سے بڑی کامیابی سمجھتی ہے، جس کے باعث اسے عوامی حمایت حاصل ہے اور وہ چینی عوام کے لیے قابل اعتماد ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔
کمیونسٹ پارٹی آف چائنا صرف چینی عوام کے لیے خوشحالی اور چینی قوم کے قومی احیا کے لیے ہی نہیں بلکہ انسانیت کی ترقی اور دنیا کی مشترکہ بھلائی کے لیے بھی کام کرتی ہے۔ جنرل سیکرٹری شی جن پنگ کے مطابق چینی عوام صرف اپنے لیے اچھی زندگی کی خواہش نہیں رکھتے بلکہ دنیا کے دیگر حصوں کے لوگوں کے لیے بھی بہتر زندگی کے خواہاں ہیں۔ چین پاکستان تعلقات کے نئے عہد میں اس تصور کی واضح عکاسی ہوتی ہے۔
جنرل سیکرٹری شی جن پنگ نے ہمیشہ پاکستان کی قومی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کو اہمیت دی اور اس کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے پاکستانی قیادت کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے درمیان ہر آزمائش پر پورا اترنے والی تزویراتی تعاون کی شراکت داری قائم کی اور نئے عہد میں مزید قریبی چین پاکستان ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے حوالے سے اہم اتفاق رائے حاصل کیا۔
جنرل سیکرٹری شی جن پنگ نے زور دیا ہے کہ پاکستان کے حوالے سے چین کی دوستانہ پالیسی ہمیشہ پاکستان کے تمام عوام کے لیے ہے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کی منصوبہ بندی اور ترتیب میں پاکستان کے تمام خطوں کو مدنظر رکھا جانا چاہیے تاکہ ترقی کے ثمرات تمام پاکستانی عوام تک پہنچ سکیں۔
اب تک سی پیک کے تحت 25.9 ارب ڈالر سے زائد براہ راست سرمایہ کاری لائی گئی، 2 لاکھ 60 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوئے، 8 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا، 510 کلومیٹر شاہراہیں اور 886 کلومیٹر قومی سطح کے بنیادی بجلی ترسیلی نیٹ ورک تعمیر کیے گئے۔
ان منصوبوں نے پاکستان کی معاشی و سماجی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کو مضبوط رفتار فراہم کی ہے، اعلیٰ معیار کی بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کے لیے ایک مؤثر مثال قائم کی ہے اور چین پاکستان ہم نصیب معاشرے کی ایک واضح عکاسی بن چکے ہیں۔
رواں سال چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ جنرل سیکرٹری شی جن پنگ نے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو آگے بڑھانے کے حوالے سے اہم نئے اتفاق رائے حاصل کیے ہیں، جن پر دونوں ممالک پوری سنجیدگی سے عملدرآمد کر رہے ہیں۔
دو ہفتے سے بھی کم عرصہ قبل ہم نے فیصل آباد کے صنعتی پارک کا دورہ کیا۔ ہمیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ وہاں 39 چینی نجی کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جن میں سے بیشتر مستحکم انداز میں چل رہی ہیں اور منافع کما رہی ہیں۔ یہ کامیابی پاکستان میں سازگار کاروباری ماحول کی مرہون منت ہے۔
یہ چینی کمپنیاں مقامی برادریوں کی فلاح و بہبود میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ صرف پانچ سرامک کمپنیوں کی جانب سے سالانہ تقریباً 2 کروڑ ڈالر ٹیکس ادا کیا جاتا ہے جبکہ وہ 5 ہزار سے زائد مقامی افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہیں۔
ایسی بہت سی متاثر کن مثالیں موجود ہیں جہاں باہمی عزم نے دونوں ممالک کے عوام کے لیے ٹھوس فوائد پیدا کیے ہیں۔ ہم پاکستان کے ساتھ ترقی کے عوام مرکوز تصور کو مکمل طور پر عملی جامہ پہنانے، بڑے اور نمایاں منصوبوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے مگر مؤثر عوامی فلاحی منصوبوں کو آگے بڑھانے اور عوامی فلاح و مشترکہ خوشحالی کی جانب شانہ بشانہ سفر جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔
عملی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہمیں باہمی سیکھنے اور پارٹی سازی و حکمرانی کے شعبوں میں تبادلوں کو مسلسل گہرا کرنا ہوگا۔
ایک صدی میں رونما ہونے والی غیر معمولی تبدیلیوں کے تیز رفتار عمل اور دنیا میں ہنگامہ خیزی و تبدیلی کے نئے دور میں داخل ہونے کے ساتھ انسانیت ایک بار پھر اس سوال کے دوراہے پر کھڑی ہے کہ آگے کس سمت جانا ہے۔ دنیا بھر کی سیاسی جماعتوں کو اس مشترکہ چیلنج کا سامنا ہے کہ کس قسم کی سیاسی جماعت قائم کی جائے اور اسے کیسے مضبوط بنایا جائے۔
اس ہنگامہ خیز دنیا میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا تاریخ کے درست رخ اور انسانی تہذیب و ترقی کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ مسلسل جدوجہد کے ذریعے اس نے عالمی ترقی کے رجحانات اور منظرنامے کو نمایاں طور پر تبدیل کیا، چینی جدیدکاری کو آگے بڑھانے میں عوام کی قیادت کی اور انسانی ترقی کی ایک نئی شکل تشکیل دی۔
اسی عظیم کوشش میں شی جن پنگ کی پارٹی سازی سے متعلق فکر عالمی وژن رکھتی ہے، جو کمیونسٹ پارٹی کی اپنی اصلاح کو انسانیت کے مستقبل سے جوڑتی ہے اور عالمی سطح پر سیاسی جماعتوں کی حکمرانی کے لیے چینی دانش فراہم کرتی ہے۔
خصوصاً شی جن پنگ کی پارٹی سازی سے متعلق فکر خود اعتمادی، خود انحصاری، بنیادی اصولوں کی پاسداری اور جدت طرازی پر زور دیتی ہے۔ اس نے اندرونی چیلنجز سے اپنی قوت کے ذریعے نمٹنے کے لیے نئے راستے فراہم کیے ہیں۔ پارٹی سازی کے نئے عہد کی تزویراتی پالیسی کے طور پر پارٹی پر مکمل اور سخت خود احتسابی کو آگے بڑھایا گیا ہے۔
بدعنوانی کے خلاف اس عزم کے تحت ایسے اقدامات کیے گئے ہیں کہ عہدیداروں میں بدعنوانی کرنے کی نہ جرات ہو، نہ موقع ملے اور نہ ہی خواہش پیدا ہو۔ پارٹی کی خود اصلاح کو مسلسل جاری رکھنے اور عظیم سماجی انقلاب کی رہنمائی عظیم خود اصلاح کے ذریعے کرنے کی کوشش کی گئی ہے، تاکہ کمیونسٹ پارٹی چینی خصوصیات کے حامل سوشلزم کے مقصد کے لیے مضبوط قیادتی مرکز کے طور پر اپنا کردار برقرار رکھے۔
شی جن پنگ کی پارٹی سازی سے متعلق فکر کی اعلیٰ اقدار اور نمایاں فکری قوت ہی وہ عوامل ہیں جو ترقی پذیر ممالک سمیت دنیا کی سیاسی جماعتوں کو اپنی تنظیمی صلاحیت بہتر بنانے اور جدیدکاری کے اپنے راستے آزادانہ طور پر تلاش کرنے کے لیے قیمتی رہنمائی فراہم کرتے ہیں، جس سے انسانی سیاسی تہذیب کی ترقی میں بھی مدد ملتی ہے۔
دنیا بھر میں سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد یہ سوال کر رہی ہے کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کامیاب کیوں ہے؟
جنرل سیکرٹری شی جن پنگ نے نشاندہی کی ہے کہ مختلف ممالک کی سیاسی جماعتوں کو باہمی اعتماد میں اضافہ، رابطوں اور قریبی تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے اور نئی نوعیت کے بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد پر نئی نوعیت کے جماعتی تعلقات تشکیل دینے کی کوشش کرنی چاہیے، جن کی بنیاد اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے مشترکہ امور پر اتفاق، باہمی احترام اور باہمی سیکھنے پر ہو۔
سیاسی جماعتوں کے درمیان مختلف شکلوں اور متعدد سطحوں پر بین الاقوامی تبادلے اور تعاون کا نیٹ ورک قائم کیا جانا چاہیے تاکہ انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے لیے ایک مضبوط قوت کو یکجا کیا جا سکے۔
ہمیں خوشی ہے کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا اور پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے درمیان تبادلے اور باہمی سیکھنے کا عمل مسلسل گہرا ہو رہا ہے۔ دونوں جانب نے بین الجماعتی تبادلے اور تعاون کے حوالے سے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں، سی پیک سیاسی جماعتوں کے مشترکہ مشاورتی میکنزم قائم کیا ہے اور چین پاکستان سیاسی جماعتوں کا فورم منعقد کیا ہے۔
ہر سال چین متعدد پاکستانی سیاسی جماعتوں کے وفود کو چین کے دوروں اور کانفرنسوں میں شرکت کے لیے مدعو کرتا ہے اور سلک روڈ ورکشاپ جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے پاکستان میں چھوٹے مگر مؤثر عوامی فلاحی منصوبوں کی حمایت جاری رکھتا ہے۔
چین اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے اس اہم سال میں مئی میں ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی سیاسی جماعت کے وفد نے ہوبئی کا دورہ کیا، جس سے ذیلی قومی سطح پر تعاون کے فروغ میں مثبت کردار ادا ہوا۔
اسی ماہ چین پاکستان سیاسی جماعتوں کے دوسرے فورم اور سی پیک سیاسی جماعتوں کے مشترکہ مشاورتی میکنزم کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان کی 12 بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں روایتی دوستی کو مستحکم کرنے اور عملی تعاون کو آگے بڑھانے پر وسیع اتفاق رائے حاصل کیا گیا۔
12 اگست کو ہم نے شی جن پنگ کی پارٹی سازی سے متعلق فکر پر ایک سمپوزیم کی میزبانی کی، جس کے ذریعے پارٹی سازی اور حکمرانی کے تجربات کے حوالے سے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے عالمی سیاسی جماعتوں کے ساتھ تبادلوں میں ہم نے نمایاں مقام حاصل کیا۔
ہم پاکستانی سیاسی جماعتوں کا مخلصانہ شکریہ ادا کرتے ہیں اور اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان حاصل ہونے والے اہم اتفاق رائے پر عملدرآمد جاری رکھا جائے گا، موجودہ بنیادوں پر ’’سیاسی جماعت پلس‘‘ تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی اور بین الجماعتی باہمی سیکھنے کے مسلسل سلسلے کے ذریعے پاک چین آہنی دوستی کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔
ہم پاکستانی سیاسی جماعتوں کے ساتھ پارٹی سازی اور حکمرانی کے شعبوں میں تبادلوں کو بھی مزید گہرا کریں گے، چین پاکستان ہر آزمائش پر پورا اترنے والے تزویراتی تعاون میں نئی قوت پیدا کریں گے، چینی جدیدکاری کی نئی کامیابیوں کے ثمرات سے پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کے لیے نئے مواقع پیدا کریں گے اور نئے عہد میں مزید قریبی چین پاکستان ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو تیز کریں گے۔
