تہران (آئی پی ایس )ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران خلیجی خطے میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے، جہاں کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ڈرون حملوں کے بعد پروازیں معطل اور متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔کویت کی فوج کے مطابق ایئرپورٹ کے ایک ٹرمینل کو نشانہ بنانے والے ڈرون اور میزائل حملوں سے بھاری مالی نقصان ہوا ہے جبکہ کئی افراد زخمی ہوئے ہیں۔ حکام نے فوری طور پر ریسکیو اور سیکیورٹی آپریشن شروع کر دیا۔ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعوی کیا ہے کہ یہ حملے جوابی کارروائی کا حصہ تھے اور امریکا کے لیے ایک سبق ہونا چاہیے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائیاں خلیجی خطے میں امریکی سرگرمیوں کے جواب میں کی گئیں۔دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ اس نے دفاعی کارروائی کرتے ہوئے ایران کے قشم جزیرے پر سیلف ڈیفنس حملے کیے اور متعدد میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کیا۔امریکی حکام کے مطابق اس دوران کویت اور بحرین میں موجود شہری بحری جہاز اور اتحادی ممالک بھی خطرے کی زد میں آئے۔رپورٹ کے مطابق ایران، امریکا اور علاقائی اتحادیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں نے پورے خلیج میں کشیدگی کو نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان رپورٹس کو مسترد کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات رک گئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے مسلسل جاری ہیں اور بات چیت کسی نہ کسی شکل میں چل رہی ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی اس کشیدگی نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق اگر صورتحال قابو میں نہ آئی تو یہ ایک بڑے علاقائی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

