Monday, May 11, 2026
ہومبریکنگ نیوزوزیر امور کشمیر نے ایکشن کمیٹی کو احتجاج کال واپس لینے، آئینی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی دعوت

وزیر امور کشمیر نے ایکشن کمیٹی کو احتجاج کال واپس لینے، آئینی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی دعوت

مظفرآباد (آئی پی ایس )جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی حکومت کے نمائندوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینیئر امیر مقام نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔مظفرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت سیاسی استحکام اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کے فروغ کے لیے ہر ممکن مثبت کردار ادا کر رہی ہے۔

ان کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ میں سے 37 نکات پر یا تو مکمل عملدرآمد ہو چکا ہے یا ان پر پیش رفت جاری ہے، جبکہ صرف ایک نکتہ مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستوں سے متعلق ہے جو اپنی آئینی نوعیت کے باعث آئینی کمیٹی میں زیر غور ہے۔انجینیئر امیر مقام نے کہا کہ حکومت کی خواہش ہے کہ تمام معاملات احتجاج یا تصادم کے بجائے افہام و تفہیم اور آئینی راستے کے ذریعے حل کیے جائیں۔

انہوں نے کہاکہ مذاکرات خوشگوار اور تعمیری ماحول میں ہوئے جن میں دونوں فریقین نے اپنا مقف تفصیل سے پیش کیا۔ حکومت نے ایکشن کمیٹی کو 9 جون کی ہڑتال کی کال واپس لینے اور 14 مئی کو اسلام آباد میں ہونے والے آئینی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے تاکہ وہ اپنا مقف براہ راست پیش کر سکے۔وفاقی وزیر کے مطابق آئینی کمیٹی یہ طے کرے گی کہ مہاجرین کی نشستوں سے متعلق فیصلے کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے زور دیا کہ حساس آئینی معاملات کا حل سڑکوں کے بجائے مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات میں پاکستان عالمی سطح پر اہم سفارتی اور دفاعی مقام رکھتا ہے، جبکہ قومی اتحاد اور داخلی استحکام کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔ ایسے میں احتجاجی ماحول پیدا کرنا مناسب نہیں۔

اس موقع پر آزاد کشمیر کے وزیر حکومت وزیر دیوان علی چغتائی نے کہاکہ وفاقی وزیر کی خود مذاکرات میں شرکت حکومت کی سنجیدگی کا ثبوت ہے جبکہ چوہدری قاسم مجید نے بتایا کہ بیشتر مطالبات پر پیشرفت ہو چکی ہے اور باقی معاملہ آئینی نوعیت کا ہے جس پر آئینی فورم پر بات ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور عوامی اعتماد میں بہتری آئی ہے۔ ان کے مطابق آزاد کشمیر کے عوام ہمیشہ ریاست اور پاکستان کے استحکام کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ مذاکراتی عمل کے دوران امید ظاہر کی گئی کہ عوامی ایکشن کمیٹی 9 جون کی ہڑتال کے فیصلے پر نظرثانی کرے گی اور آئینی و جمہوری راستے کو ترجیح دیتے ہوئے مذاکرات کو آگے بڑھائے گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔