اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) ہیلتھ کیئر اسٹریٹجسٹ اور جی اے کے ہیلتھ کیئر انٹرنیشنل کے گروپ سی ای او یاسر خان نیازی نے کہا ہے کہ پاکستان میں صحت کے شعبے کی حقیقی اور دیرپا بہتری محض سہولیات کے پھیلاو سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے پورے نظام کو ایک مربوط ہیلتھ کیئر ایکوسسٹم میں ڈھالنا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ صحت کے شعبے کو الگ الگ اداروں جیسے اسپتالوں، میڈیکل کالجز، فارماسیوٹیکل کمپنیوں، تشخیصی مراکز اور دیگر سروسز کے ایک منتشر ڈھانچے کے طور پر نہیں بلکہ ایک منظم اور مربوط صنعتی نظام (انڈسٹری ) کے طور پر دیکھا جائے، جو نہ صرف علاج فراہم کرے بلکہ قومی سطح پر بہتر صحت کے نتائج، انسانی وسائل کی ترقی اور معاشی استحکام میں بھی موثر کردار ادا کرے۔یاسرنیازی نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں صحت کا مالیاتی نظام بدستور غیر مربوط ہے۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے نیشنل ہیلتھ اکاونٹس کے مطابق ملک میں مجموعی صحت اخراجات کا 50 فیصد سے زائد حصہ براہ راست مریض اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نظام میں موثر مالیاتی انضمام اور رسک پولنگ کی شدید کمی ہے۔ان کے مطابق جب صحت کی زیادہ ترمالی ذمہ داری مریض خود اٹھائیں تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہم ایک مربوط نظام کے طور پر نہیں بلکہ الگ الگ خدماتی یونٹس کے طور پر کام کر رہے ہیں، اور یہی بنیادی ساختی مسئلہ ہے۔انہوں نے مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ صحت کی سہولیات تک رسائی میں بہتری آئی ہے اور 2023 میں 13 کروڑ 80 لاکھ افراد کو یونیورسل ہیلتھ سروسز کے تحت شامل کیا گیا، تاہم اب بھی لاکھوں افراد کو صحت کے اخراجات اپنی جیب سے برداشت کرنا پڑتے ہیں، جو نظامی انضمام میں موجود خلا کی نشاندہی کرتا ہے اور مالی تحفظ و موثریت کو متاثر کر رہا ہے، جیسا کہ ڈبلیو ایچ اوورلڈ بینک کی یونیورسل ہیلتھ کوریج اپ ڈیٹ میں بتایا گیا ہے۔یاسرنیازی نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں صحت پر مجموعی اخراجات جی ڈی پی کے صرف 2 اعشاریہ9فیصد کے قریب ہیں، جو عالمی معیارات کے مقابلے میں انتہائی کم سطح ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ اب جزوی اصلاحات کے بجائے بنیادی اور ساختی تبدیلیاں کی جائیں۔
انکا مزید کہنا تھا کہ اگر صحت کے شعبے کو حقیقی معنوں میں ایک انڈسٹری کے طور پر ترقی دینی ہے تو فنانسنگ، سروس ڈیلیوری، میڈیکل ایجوکیشن، تشخیصی نظام اور ڈیجیٹل ہیلتھ انفراسٹرکچر کو ایک ہی مربوط فریم ورک کے تحت لانا ہوگا۔ جب یہ تمام اجزا الگ الگ کام کریں تو نظام کمزور رہتا ہے، لیکن جب یہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں تو اس کی کارکردگی اور اثر پذیری نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے۔انہوں نے عالمی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موثر اور مربوط پرائمری ہیلتھ کیئر نظام نہ صرف غیر ضروری اسپتال داخلوں میں 30 فیصد تک کمی لا سکتا ہے بلکہ مجموعی اخراجات میں بھی نمایاں بہتری پیدا کرتا ہے۔یاسرنیازی کے مطابق پاکستان کو اب ردعمل پر مبنی علاج کے ماڈل سے نکل کر ایک ایسے نظام کی طرف بڑھنا ہوگا جو بیماری کے علاج کے ساتھ ساتھ اس کی روک تھام، پیشگی منصوبہ بندی اور نظامی بہتری پر بھی توجہ دے۔جی اے کے ہیلتھ کیئرکے گروپ سی ای او نے کہا کہ مستقبل کا ہیلتھ سسٹم انفرادی اداروں کی کارکردگی سے نہیں بلکہ ایک مربوط قومی ہیلتھ ایکوسسٹم کی مضبوطی سے متعین ہوگا۔انہوں نے کہا اگر ہمارا ہدف بہتر نتائج، مالی تحفظ اور عالمی معیار کی صحت کا حصول ہے تو ہمیں اداروں کے بجائے پورے نظام کی تعمیر پر توجہ دینا ہوگی۔آخرمیں یاسرنیازی نے کہا کہ یہ تبدیلی نہ صرف سرکاری اور نجی شعبے کی استعداد کو بہتر بنائے گی بلکہ صحت کے شعبے کو ایک اعلی ویلیو ایڈڈ معاشی صنعت کے طور پر بھی ابھارے گی، جو سرمایہ کاری، جدت، روزگار، برآمدات اور مجموعی قومی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اب وقت کے ساتھ چلنے کے بجائے وقت کی سمت متعین کرنے کی ضرورت ہے، اور یہی وہ مرحلہ ہے جہاں پاکستان کی ہیلتھ کیئر قیادت کو فیصلہ کن کردار ادا کرنا ہوگا۔
