اسلام آباد(سب نیوز )اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سردار طاہر محمود نے وزیر اعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاشی سرگرمیوں کے تحفظ کے لیے مارکیٹس کو جلد بند کرنے کی پالیسی پر نظر ثانی کریں۔
وزیراعظم کو لکھے گئے ایک خط میں سردار طاہر محمود نے پاکستان بھر میں اور بالخصوص اسلام آباد میں تجارتی مراکز کی جلد بندش کے منفی معاشی اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے نشاندہی کی کہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مناسب مشاورت کے بغیر کیے گئے فیصلے نے معیشت کے متعدد شعبوں کو منفی طور پر متاثر کیا ہے۔
آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ ریستوران، شاپنگ مالز، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے علاہ مجموعی تجارتی سرگرمیوں میں سست روی آئی ہے اور یہ کہ تاجر برادری پہلے ہی معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہے اور ایسے اقدامات ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔
سردار طاہر محمود نے اپنے خط میں مزید کہا ہے کہ کہ تاجر برادری علاقائی امن، استحکام اور اقتصادی اعتماد کے لیے اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ-ایران مذاکرات کے متوقع دوسرے دور کے لے اپنی غیر متزلزل حمایت کے لیے بھی پوری طرح سے پر عزم ہے۔
سردار طاہر محمود نے اس بات پر زور دیا کہ قبل از وقت بندش کی پالیسی میں معقول اور متوازن ایڈجسٹمنٹ سے کاروباری اداروں کو فوری ریلیف ملے گا، اعتماد بحال ہوگا اور معاشی استحکام آئے گا۔ انہوں نے حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اقتصادی پالیسیاں عملی، جامع اور ترقی پر مبنی ہوں۔
دریں اثنا اسلام آباد ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے اس کے چیئرمین حبیب اللہ زاہد کی قیادت میں بدھ کے روز چیمبر ہاس کا دورہ کیا اور کاروباری مراکز کی جلد بندش کے منفی اثرات بارے بات چیت کی۔ وفد نے آئی سی سی آئی کی قیادت کو ریسٹورنٹ کے شعبے کو اس پالیسی کے باعث درپیش چیلنجوں سے آگاہ کیا اور پالیسی کو معقول بنانے کے آئی سی سی آئی کے موقف کی حمایت کا اظہار کیا۔
اس موقع پر آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب اور ایگزیکٹو ممبر ذوالقرنین عباسی ، عمران منہاس، اسلام آباد ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن کے صدر خرم خان اور جنرل سیکرٹری سکندر بختیار سمیت دیگر اراکین بھی موجود تھے۔
