تحریر: یاسر خان بلوچ
@YasirkKhanblouch
دنیا نے ایسے فاتح نہیں دیکھے ہوں گے۔ اللہ کے سامنے جھکنے والی گردنوں کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں جھکاسکی۔ ان کی فتح کا رازیہ ہے کہ وہ دنیاوی طاقتوں کے سامنے سر کو جھکانے کی بجائے ایک اللہ وحدہ لا شریک کے سامنے جھکتے ہیں اور پھر رب تعالیٰ بھی اپنے بندوں کی ایسی لاج رکھتا ہے کہ وقت کے فرعون صفت متکبر سُپر طاقت اپنا سامانِ جنگ چھوڑچھاڑکر اوردم دبا کر بھاگ نکلے۔ اور صرف 15 دن میں پورا ملک فتح کرنے کے باوجود عاجزی کا یہ عالم ہے کہ زمین پر بے اختیار سجدہ ریزہو گئے ہیں۔
یہاں بات اس انٹرویو کی کرتے ہیں جو ملا عمر نے وائس آف امریکہ کو دیا تھا جس میں ملا عمر نے کہا تھا ” میرے سامنے دو وعدے ہیں ایک وعدہ بُش کا اور دوسرا وعدہ میرے اللہ کا۔ میرے اللہ کا وعدہ ہے کہ میری زمین بہت بڑی ہے اگر تم اس زمین پر کسی بھی جگہ جاؤ وہاں سکونت اختیار کرسکتے ہو اور تمہاری حفاظت کی جائے گی دوسری جانب بُش کا یہ وعدہ ہے کہ زمین پر ایسی کوئی جگہ نہیں ہے جہاں تم چھپ سکو اورہم تلاش نہ کرسکیں۔ ہم دیکھیں گے کہ ان میں سے کون سا وعدہ پورا ہوتا ہے”۔ اور آج اللہ کا وعدہ پورا ہوا ور سُپر پاور بھی کچھ نہ کرسکی اور امارت اسلامیہ کا اعلان ہو گیا۔
ایک اورسوال کے جواب میں ملا عمر نے کہا” ہم مسلمانوں کی مدد اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ کیونکہ وہ کفار سے کبھی راضی نہیں ہوگا۔ پاور کے اعتبار سے امریکہ بہت طاقت ور ہے۔ اگر وہ اس سے بھی دو گنا زیادہ طاقت ہو جائے تو بھی ہمیں شکست نہیں دے سکتا اور ہمیں یقین ہے کہ ہمارا مالک ہمارے ساتھ ہے اور ہمیں کوئی بھی دنیا کی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی” اور آج یہ بات بھی ملا عمر کی سچ ثابت ہوئی جب دنیا کی سُپر پاور فوج نے بھی ان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔
دنیا کو آخر طالبان سے ڈر کیوں ہے؟ کس وجہ سے امارت اسلامیہ سے ڈرتے ہیں؟ کیا یہ طالبان سے ڈرتے ہیں؟
نہیں بلکل نہیں کیونکہ ہم گناہ کرنے سے نہیں بلکہ اس گناہ کی سزا سے ڈرتے ہیں۔ ہم زنا سے نہیں ڈرتے بلکہ کوئی اس کی سزا اسلامی نظام کے مطابق دے اس سے ڈرتے ہیں۔ ہم چوری کرنے سے نہیں ڈرتے بلکہ چوری کی سزا ہاتھ کاٹنے سے ڈرتے ہیں۔ ہماری عورتیں کم لباس پہننے سے نہیں ڈرتی بلکہ اسلامی نظام کے مطابق لباس پہننے سے ڈرتی ہیں۔ اور برملا طور پر کہتی ہیں کے اس سے ہمارا دم گھٹتا ہے اور ہمیں آزادی دو۔ ہم کسی کا قتل کرنے سے نہیں بلکہ اسلام میں قتل کے قصاص کی بات ہوئی اور اس قصاص کو دینے سے ڈرتے ہیں۔ ہم حرام کی کمائی کے خاتمے سے ڈرتے ہیں۔ ہم سنت کے مطابق اپنے چہرے بنانے سے ڈرتے ہیں۔ ہم داڑھی رکھنے سے ڈرتے ہیں۔ ہم اوقات نماز کاروبار بند کرنے سے ڈرتے ہیں ہم چھوٹے بچوں سے زیادتی سے نہیں ڈرتے بلکہ اس کی سزا اسلامی نظام سے ہو اس سے ڈرتے ہیں۔ الغرض ہم طالبان سے نہیں ڈرتے بلکہ اسلامی نظام سے ڈرتے ہیں جس میں ہم سب کیلئے بھلائی ہے۔
جیسے ہر ملک کی اپنی پالیسی یہی ہے کہ وہ اپنے معاملات میں کسی کی دخل اندازی نہیں برداشت کرتا تو پھر طالبان چاہیے زورِ بازو سے حکومت لے چکے لیکن یہ بات یاد رکھیں جب انہوں نے کابل لیا کسی بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی اور اقتدار لینے کے بعد ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے عام معافی کا اعلان کیا۔ تو دنیا کو بھی چاہیے کہ وہ امارت اسلامیہ کو تسلیم کرے۔

