ہومکالم وبلاگزاپنوں سے دوری

اپنوں سے دوری

تحریر:محمد محسن اقبال


ایک زمانہ تھا جب خاندان انسانی زندگی کی سب سے مضبوط بنیاد سمجھا جاتا تھا۔ اس کی عمارت احترام، محبت، ایثار اور باہمی اعتماد کے مضبوط ستونوں پر استوار تھی۔ گھر میں بزرگوں کی موجودگی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت تصور کی جاتی تھی۔ ان کی پیشانیوں کی جھریاں زمانے کے نشیب و فراز کی داستان سناتیں اور ان کے نپے تلے الفاظ برسوں کے تجربے، بصیرت اور دانائی کا نچوڑ ہوتے تھے۔ انہوں نے خوشحالی کے موسم بھی دیکھے ہوتے تھے اور تنگ دستی کی کڑی ساعتیں بھی۔ اسی لیے ان کی رائے کبھی جذبات کی رو میں نہیں بہتی تھی بلکہ تلخ و شیریں تجربات کی مضبوط بنیاد پر قائم ہوتی تھی۔ شادی بیاہ کے فیصلے ہوں، گھریلو اختلافات، کھیتی باڑی کے معاملات یا نئی نسل کی تعلیم و تربیت، ہر اہم اور معمولی مسئلہ خاندان کے افراد کے باہمی مشورے سے طے پاتا تھا۔ گفتگو میں اختلاف بھی ہوتا، مگر احترام کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوٹتا۔ اجتماعی سوچ سے جنم لینے والے فیصلے زیادہ مضبوط، زیادہ پائیدار اور زیادہ بابرکت ثابت ہوتے۔ خوشی بانٹنے سے دوبالا ہو جاتی اور غم تقسیم کرنے سے ہلکا محسوس ہوتا۔ یہ باہمی اعتماد محض ایک روایت نہ تھا بلکہ ایک مقدس امانت تھی جو خون کے رشتوں کو مزید استحکام بخشتی تھی۔


عید جیسے تہوار اسی خاندانی یکجہتی کی روشن علامت ہوا کرتے تھے۔ گھروں کی صفائی نہایت اہتمام سے کی جاتی، چراغ روشن ہوتے اور محبت سے تیار کیے گئے پکوانوں کی خوشبو ہر سو بکھر جاتی۔ خاندان کے افراد اپنے بہترین لباس زیبِ تن کرکے اکٹھے ہوتے اور ایک دوسرے کو اس محبت سے گلے لگاتے کہ الفاظ کی ضرورت ہی باقی نہ رہتی۔ بچے بزرگوں کے ہاتھ چوم کر اور ان سے دعائیں لے کر خود کو خوش نصیب سمجھتے۔ رشتہ داروں سے ملنا محض ایک رسمی فریضہ نہیں بلکہ خوشی اور محبت کا تقاضا سمجھا جاتا تھا۔ کوئی بیمار چچا کی عیادت کے لیے میلوں کا سفر طے کرتا، کوئی بیوہ پھوپھی کے لیے مٹھائی لے جاتا اور کوئی غم کے لمحوں میں اپنے عزیز کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہو جاتا۔ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہونا احسان نہیں بلکہ رشتہ داری کا فطری تقاضا تصور کیا جاتا تھا، گویا یہی خاندانی زندگی کی دھڑکن تھی۔


پھر وقت نے کروٹ لی۔ جدید دور اپنی بے پناہ مصروفیات اور چکاچوند ایجادات کے ساتھ آیا اور رفتہ رفتہ ان مضبوط رشتوں کی گرہیں ڈھیلی ہونے لگیں۔ ٹیکنالوجی ترقی کا پیامبر بن کر سامنے آئی اور انٹرنیٹ نے دنیا کو سمیٹ کر ایک گاؤں بنا دینے کا دعویٰ کیا۔ واقعی، اس نے سمندروں کے پار رہنے والوں کو لمحوں میں ایک دوسرے سے جوڑ دیا، لیکن افسوس کہ ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے افراد کے درمیان فاصلے بھی بڑھا دیے۔ کبھی عید کارڈ بڑی محبت اور سلیقے سے منتخب کیے جاتے، اپنے ہاتھ سے دل کی گہرائیوں سے نکلے ہوئے الفاظ لکھے جاتے اور وہ چند جملے برسوں یاد رہتے۔ آج ان کی جگہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ بے شمار خوبصورت مگر بے روح پیغامات نے لے لی ہے۔ جو الفاظ کبھی دل میں اتر جاتے تھے، وہ اب محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ گئے ہیں۔


اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہماری نگاہیں اپنے قریب کے لوگوں سے ہٹ کر اجنبی دنیا کی طرف مرکوز ہو گئی ہیں۔ ہم گھنٹوں نامعلوم لوگوں کی زندگیوں کو سوشل میڈیا پر دیکھتے رہتے ہیں، ایسے افراد کی تصویروں پر پسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں جنہیں ہم جانتے تک نہیں، مگر اپنے والدین کی خاموش پریشانیاں اور اپنی اولاد کی ان کہی خواہشیں ہماری توجہ سے اوجھل رہتی ہیں۔ ہم مہربانی، صبر، شکرگزاری اور انسان دوستی پر مبنی دل کو چھو لینے والی تحریریں تو بڑے شوق سے شیئر کرتے ہیں، لیکن ان تعلیمات پر خود عمل کرنے کی نوبت کم ہی آتی ہے۔ ہماری ڈیجیٹل دوستی پانی کی سطح پر ابھرتے ہوئے بلبلوں کی مانند ہے؛ دیکھنے میں دلکش، مگر اندر سے کھوکھلی۔ یہ لمحوں میں ٹوٹ جاتی ہے اور اپنے پیچھے صرف ایک خوش فہمی چھوڑ جاتی ہے۔


آج بہت سے گھروں میں ایک دل گرفتہ منظر دکھائی دیتا ہے۔ ایک کمرے میں باپ اپنے موبائل فون میں گم ہے، کہیں دور کے کاروباری معاملات یا گفتگو میں مصروف۔ اس کے قریب ماں بھی کسی اسکرین پر چلتی تصویروں اور آوازوں میں محو ہے، اس کی مسکراہٹ اب گھر والوں کے بجائے موبائل کی دنیا کے لیے مخصوص ہو چکی ہے۔ بچے بھی اپنے اپنے آلات پر نظریں جمائے، کسی نامعلوم دوست کے لطیفوں پر ہنس رہے ہیں یا مجازی دنیا میں داد و تحسین سمیٹنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ وہ جسمانی طور پر ایک دوسرے کے قریب ضرور ہیں، مگر روحانی اور جذباتی طور پر ایک دوسرے سے کوسوں دور۔ گھر میں بیٹھ کر دن بھر کے واقعات سنانے کا لطف، ایک دوسرے کی آواز میں اپنائیت محسوس کرنا، یا خاموش نگاہوں سے دل کی بات سمجھ لینا اب نایاب ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے عجیب ہنر سیکھ لیا ہے کہ موجود ہو کر بھی غیر موجود رہیں اور غیر موجود ہو کر بھی اپنی موجودگی کا تاثر دیتے رہیں۔


یہ حقیقت اگرچہ دل کو زخمی کرتی ہے، مگر اس سے انکار ممکن نہیں کہ ہم بہت بدل چکے ہیں۔ اب ہمیں اپنے عزیزوں کے بارے میں بس اتنا معلوم ہوتا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ بزرگوں کی زندگی کے قیمتی تجربات فراموشی کی گرد میں دب گئے ہیں، خاندانی مشاورت خاموش ہو چکی ہے، اور رشتہ داروں کے ہاں بے تکلف چلے جانا اب خوشی کے بجائے ایک زحمت محسوس ہونے لگا ہے۔ حالانکہ وہی اپنے ہیں جو خوشیوں میں بھی ہمارے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور مصیبتوں کے طوفان میں بھی ہمارا سہارا بنتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ دور کے ہجوم سے کہیں زیادہ ہمارے اپنے لوگ ہماری توجہ اور محبت کے مستحق ہیں۔


لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ ہم زندگی کی اصل روح کو دوبارہ دریافت کریں۔ آئیے، دن کے کچھ اوقات میں موبائل فون اور اسکرینوں کو ایک طرف رکھ دیں، اپنے اردگرد بیٹھے چہروں کو محبت سے دیکھیں اور حقیقی رفاقت کی اس نعمت کو پھر سے محسوس کریں جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ خاندان کی میز پر مشورے کی روایت دوبارہ زندہ ہو، رشتہ داروں کے گھروں میں آمدورفت پھر معمول بنے، اور عید جیسے تہوار اپنی پرانی محبت، خلوص اور روحانیت کے ساتھ واپس آئیں۔ ٹیکنالوجی کو اپنا آقا نہیں بلکہ اپنا خادم بنائیں، اور اسے عقل و دانائی کے ساتھ استعمال کریں۔ جب ہم ان رشتوں کی آبیاری کریں گے جو ہمارے ساتھ روزی بانٹتے ہیں، ہمارے دکھ سکھ کے ساتھی ہیں اور ہمارے دلوں کے سب سے قریب ہیں، تبھی خاندان کا بکھرتا ہوا تانا بانا دوبارہ اپنی مضبوطی، خوبصورتی اور وقار حاصل کر سکے گا۔ کیونکہ انسان کے دل کو حقیقی سکون لوگوں کے ہجوم کی وقتی داد میں نہیں، بلکہ اپنے عزیزوں کی خاموش محبت، بے لوث وفاداری اور دائمی رفاقت میں ملتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔