Sunday, May 17, 2026
ہومکالم وبلاگزبلاگززمانہ بہادروں کو یاد رکھتا ہے

زمانہ بہادروں کو یاد رکھتا ہے

تحریر:محمد خرم
‎@KhurramCaptain
یہ دنیا فانی ہے جو بھی پیدا ہوا اسے ایک روزمرجانا ہے بادشاہ ہویا فقیر’ امیر ہو یا غریب’ نیک ہو یا بد’ موت اس کا مقدرہے مگرکچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو مٹی کی آغوش میں چلے جاتے ہیں لیکن دنیا ان کے نام کو کبھی نہیں بھولتی جوحق اورسچ پراپنی جان تو نثارکردیتے ہیں لیکن ظالم کے آگے نہیں جھکتے ایسے لوگ انتہا کے صابر اوراللّٰہ تعالیٰ کے احکامات کو ہرصورت ماننے والے ہوتے ہیں۔
حضرت محمد صلی اللّہ علیہ وسلم دنیا کی سب سے بہادر شخصیت تھیں آپ جب درخت کی چھاؤں تلے آرام فرما رہے تھے ایک کافر تلوار لہرا کر آپ سے کہتا ہے کہ اے محمد صلی اللّہ علیہ وسلم اب آپ کو میرے ہاتھوں سے کون بچائے گا تو آپ نے بڑے پرسکون اندازسے فرمایا میرا اللّہ یہ سنتے ہی اس کافرکے ہاتھوں سے تلوار نیچے گرگئی۔
فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللّہ علیہ وسلم نے سب کے لیےعام معافی کا اعلان کردیا۔ جن میں آپ کے دشمن بھی تھے یہ بہادری کی انتہا تھی کہ آپ نے غالب آنے کے باوجود سب کو معاف کردیا۔
دنیا میں بیسیوں لوگوں نے اللّہ کے راستے میں جہاد کیا اور شہادت نصیب فرمائی مگر ایک ایسی شہادت جسے کوئی بھی نہیں بھلا سکتا وہ ہے امام عالی مقام حضرت امام حسین کی شہادت۔امام عالی مقام نے اپنی اور اپنے جانثاروں کی جانیں قربان کردیں مگر ظالم و فاسق یزید کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی یہ بھی بہادری کی عظیم قربانی تھی۔
حضرت خالد بن ولید، سعد بن ابی وقاص، نور الدین زنگی’، صلاح الدین ایوبی، یوسف بن تاشفین، موسیٰ بن نصیر، طارق بن زیاد، محمد بن قاسم، ٹیپو سلطان، شہاب الدین غوری، قائد اعظم محمد علی جناح میجرعزیز بھٹی شہید یہ کچھ ایسے نام ہیں جنہیں آج بھی دنیا یاد کرتی ہے۔
مسلمان جب اللہ تعالٰی کی راہ میں لڑتا ہے تو دشمن کی تعداد اور ہتھیارکو نہیں دیکھتا بلکہ جذبہ ایمانی اور شہادت ہی اس کا ہتھیار ہوتا ہے یہی وہ ایمانی قوت تھی جس نے چرواہوں کو سلطنت عثمانیہ بنا کردی مغلوں کو برصغیر پر حاکم بنایا۔
افغانستان کی سر زمین جو عرصہ دراز سے صیہونی قوتوں کے زیر اثر تھی اب افغان مجاہدوں کے ہاتھوں میں ہیں دنیا نے دیکھا کے شلوار قمیض اور ٹوٹی پھوٹی چپل پہنے مجاہدوں نے کیسے ٹیکنالوجی سے لیس فوجیوں کوعبرت ناک شکست سے دوچار کیا اور انہیں اپنے وطن سے نکلنے پر مجبور کیا دنیا حیران ہے کہ یہ کیوں کر اور کیسے ہوا۔ آئیے میں بتاتا ہوں آپ کو۔
علامہ محمد اقبال کہتے ہیں۔
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
جہاد میں برکت ہے افغان مجاہدوں نے اپنے دشمنوں سے مذمت نہیں کی کسی یادداشت کو جمع نہیں کرایا۔ اقوامِ متحدہ میں آزادی کےلئے تقاریر نہیں کیں کسی ملک سے مدد نہیں مانگی۔ بلکہ اللّہ کے حکم کے مطابق بندوق تھامی اور دشمن کے سامنے سینہ تان کر لڑے پھر اللہ تعالٰی نے بھی کامیابی عطا کی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔