تحریر: سجاد حسین قمر
@SajjadHQamar
بنی اسرائیل کے وجود آتے ہی اس قوم پر ﷲ کی رحمتیں اورنعمتیں نازل ہونا شروع ہوگئی تھیں۔ حضرت موسی علیہ السلام کے آنے کے بعد ان پر مزید کرم نازل ہوتا رہا لیکن یہ قوم شروع دن سے ہی ناشکری اور سازشی تھی۔ حالانکہ حضرت موسی علیہ السلام سے لیکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول تک کوئی بھی ایسا دورنہیں تھا کہ اس قوم میں کوئی نبی موجود نہ ہو۔ اس قوم سے پہلے تک جب سے یہ کائنات وجود میں آئی کسی پر بھی اتنا فضل نہیں رہا جتنا ﷲ سبحانہ و تعالی نے اس قوم پر کیا۔
جب حضرت عیسی ابن مریم آئے تو اس قوم نے ان پر الزامات لگائے اور پھر انہیں مصلوب کردیا ۔ انہوں نے اپنے طور انہیں سولی چڑھادیا لیکن اللہ نے اپنی کو زندہ آسمان پر اٹھالیا۔ اس کے کچھ سال بعد سن 70 عیسوی میں رومی جنرل ٹائیٹوس کے ہاتھوں ان پر دنیاوی عذاب کا کوڑا پڑا اور ایک دن میں لاکھوں یہودی قتل ہوئے اور فلسطین کی ارضِ زمین سے نکال دئیے گئے۔ اس کے بعد دنیا کے مختلف جگہوں پر آباد ہوئے۔ اس دوران بھی ان کی سازشیں جاری رہیں۔
خلافتِ عثمانیہ کے بکھرنے کے بعد جنگ عظیم دوم کے بعد انگریزوں کی مدد سے فلسطین پر قبضہ کرکے مسلم دنیا کی پیٹھ میں خنجر گھونپا گیا۔ لیکن ﷲ کا قانون رہا ہے کہ وائرس پھیلنے سے پہلے اس کا اینٹی وائرس بنا دیتا ہے۔ اسرائیل کی ریاست وجود میں آنے سے پہلے 27 شبِ قدر کی رات تحفے کے طور پرمسلمانوں کو پاکستان جیسی نعمت سے نوازا۔ دن رات اُبھرتے ہوئے اورترقی کرتے ہوئے ملک پاکستان پرہرایک کی نظریں جمی ہوئی تھی کچھ برس بعد عرب اسرائیل جنگ ہوئی اور اسرائیل جنگ جیت گیا فرانس کے شہر پیرس میں جشن کا انتظام کیا گیا۔
گولڈامئیر اسرائیلی وزیراعظم سے پوچھا گیا کہ اب تو آپ نے اپنے رویتی حریف کو شکست دے دی ہے اب تو آپ کو دنیا میں کسی سے خطرہ نہیں ہوگا۔ گولڈامئیر نے جواب دیا کہ ہمیں اگر کسی سے خطرہ ہے تو وہ ہے پاکستان یاد رہے کہ اس سے پہلے اسرائیل کے وزیر دفاع اور پہلے وزیراعظم ڈیوڈ بین گوریئون بھی کہہ چکے تھے کہ ہمیں صرف خطرہ ہے تو پاکستان سے حالانکہ تب پاکستان ایٹمی پاور بھی نہیں بنا تھا۔
اسرائیل نے پاکستان بنتے ہی متعدد بار کوشش کی اور ابھی تک کوشش کر رہا ہے کبھی سیاستدانوں، میڈیا چینلز، اینکرپرسنز، سوشل ایکٹیوسٹ کو خرید کر ریاستِ پاکستان کے خلاف استعمال کرکے لیکن ہر بارمنہ کی کھانی پڑی۔ جب امریکہ نے اسرائیل پر ضرور دیا کہ عربوں سے صلح کرلے تو اسرائیل نے دھمکی دی کہ ہمارے معاملات میں نہ پڑو ورنہ ہم تمہارا وہ حال کریں گے کہ یاد رکھو گے۔ جب بھارت نے ایٹمی دھماکے کرلئے تو پاکستان پر دن رات پریشر رہتا تھا کہ کیسے ان کو جواب دیا جائے حالانکہ پاکستان بہت پہلے سے ایٹمی پاوربن چکا تھا۔ پاکستان کو اربوں ڈالرکی آفر آتی رہی کہ دھماکے نہ کریں اوراس دوران ان کی پوری کوشش رہی کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو ختم کردیا جائے لیکن بری طرح ناکام رہے۔ نائن الیون کے بعد اسرائیل نے پوری کوشش کی کہ امریکہ اپنا غصہ پاکستان پرنکالے اورحملہ کردے تاکہ آخری دشمن بھی ختم ہوجائے جب کوئی ثبوت نہیں ملا تو ساری ذمہ داری افغانستان پر ڈال دی پھرپاکستان نے امریکہ کی مدد سے افغانستان میں امریکہ کو ہی شکست دی اور آج کفارجان چکا ہے کہ پاکستان کو ہرانا ناممکن ہے آج دنیا میں جہاں جہاں بھی مسلمانوں کی قدروعزت کی جاتی ہے صرف پاکستان کی وجہ سے پاکستان ترقی پذیر ملک ہونے کے باوجود پوری دنیا میں جہاں جہاں بھی مسلمان تکلیف میں آئے پاکستان نے وہاں مدد کی ہے۔ ﷲ نے اس ملک سے خاص کام لینا ہے ورنہ جیسے کرپٹ ہیں یہ ملک کب کا ختم ہو چکا ہوتا۔ دنیا میں بڑے بڑے بادشاہ وزیرآئے سب چلے گئے ہم نے بھی چلے جانا ہے کیوں نہ پاکستان اور اسلام کے لیے کچھ ایسا کر جائیں کہ دنیا و آخرت میں اچھا مقام حاصل ہو۔
پاکستان زندہ باد
پاکستان کی سلامتی اسرائیل کا دردِ سر
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
