Sunday, May 17, 2026
ہوماسلام آبادلاک ڈائون ختم نہ ہوا تواسلام آباد کے تاجروں کا رخ وزیراعظم ہاوس کی طرف ہوگا،کاشف چوہدری

لاک ڈائون ختم نہ ہوا تواسلام آباد کے تاجروں کا رخ وزیراعظم ہاوس کی طرف ہوگا،کاشف چوہدری

اسلام آباد(سب نیوز)مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمدکاشف چوہدری نے حکومت کو سخت وارننگ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر اسلام آباد میں لاک ڈاون کے خاتمے کا فوری نوٹیفکیشن جاری نہ کیا گیا تو وفاقی دارالحکومت کے تاجر وزیراعظم ہاوس کی جانب مارچ کریں گے۔
اتوار کو جاری بیان کے مطابق انہوں نے حکومت کی نااہلی اور ناقص پالیسیوں کو تاجروں کیلئے اربوں روپے کے معاشی نقصان کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے حیران کن اعداد و شمار بھی سامنے رکھ دیے۔کاشف چوہدری نے کہا کہ پورے ملک میں لاک ڈاون ختم کیا جا چکا ہے مگر اسلام آباد کے تاجروں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اور بعض نااہل تاجروں کے نام نہاد نمائندوں کی چپقلشوں کی سزا تاجروں کو دی جا رہی ہے جبکہ کاروباری طبقہ پہلے ہی شدید مالی بحران کا شکار ہے۔
وفاق کے تاجروں کا ،کاروبار ایران امریکامذاکرات کے دوران بارہ دن مکمل بند رہا جبکہ اسی طرح ایک مذہبی جماعت کے احتجاج اور ایس سی او سمٹ پر بھی اسلام آباد کو کئی دن بند رکھا گیا تھا۔انہوں نے حیران کن اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ کے لاک ڈاون کے باعث صرف اسلام آباد کے تاجروں کو 90 ارب روپے سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا جبکہ حکومت کو بھی سیلز ٹیکس کی مد میں 12 ارب اور انکم ٹیکس کی مد میں ڈیڑھ ارب روپے کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔
صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کاشف چوہدری کے مطابق پھل، فروٹ اور کھانے پینے کی 1080 ملین روپے مالیت کی اشیا خراب ہو چکی ہیں جبکہ ہوٹلوں، گیسٹ ہاوسز، ریسٹورنٹس اور مارکیز کو 3.6 ارب روپے کا نقصان پہنچاہے اسی طرح پبلک ٹرانسپورٹ 2.4 ارب، ٹرکوں اور ہیوی ٹرانسپورٹ 450 ملین جبکہ دیہاڑی پر کام کرنے والے بائیک رائیڈرز 150 ملین روپے کے نقصان سے دوچار ہو چکے ہیں۔
کاشف چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد کے تاجر سالانہ 232 ارب روپے بجلی کے بلوں پر ٹیکس ادا کرتے ہیں، صرف بلیو ایریا مارکیٹ کے تاجر 39.9 ارب روپے انکم ٹیکس دیتے ہیں، اس کے باوجود تاجروں کو مسلسل بندشوں اور لاک ڈاون کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اسلام آباد کیلئے لاک ڈاون خاتمے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، بصورت دیگر تاجر سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے اور احتجاج کا رخ وزیراعظم ہاوس کی طرف ہوگا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔