Sunday, May 17, 2026
ہومپاکستانامریکا اور ایران مذاکرات کے دوسرے دور اور مستقل امن کیلئے پرامید ہوں، وزیراعظم

امریکا اور ایران مذاکرات کے دوسرے دور اور مستقل امن کیلئے پرامید ہوں، وزیراعظم

اسلام آباد (سب نیوز)وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کے دوسرے دور اور مستقل امن کے حوالے سے پرامید ہیں۔برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ ہماری تاریخ کے روشن ترین لمحات میں سے ایک ہے۔ دنیا بھر میں پاکستان کو ایک ایماندار ثالث اور ایسے ملک کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے جس پر عالمی قیادت کو مکمل اعتماد ہے۔ یہ ہمارا سنہری وقت ہے اور 24 کروڑ پاکستانیوں کی طرح مجھے بھی ایک پاکستانی ہونے پر فخر ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان آمنے سامنے مذاکرات کے دوسرے دور اور مستقل امن کے حوالے سے پرامید ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ امن آسانی سے حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے لیے صبر، دانشمندی اور مشکل حالات میں فیصلے کرنے کی صلاحیت چاہیے۔ ہم اب بھی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ اسلام آباد میں مذاکرات کا ایک اور دور ہو اور دیرپا امن قائم ہو سکے، باقی سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خوش قسمتی سے ہمیں یہ باوقار کردار ملا ہے۔ ہماری سیاسی اور فوجی قیادت کی شراکت داری کے باعث پاکستان کی عالمی ساکھ مکمل طور پر بدل گئی ہے۔ خوش قسمتی سے ایران، امریکا اور خلیجی ممالک سب پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جب کہ سعودی عرب اور قطر سے بھی اس کے قریبی تعلقات ہیں۔ پاکستان کی ایران کے ساتھ 565 میل طویل سرحد ہے، جب کہ آبنائے ہرمز کے قریب اس کی بندرگاہیں موجود ہیں، جو عالمی توانائی کی رسد کے لیے انتہائی اہم علاقہ ہے۔ جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور قلت پاکستان کی معیشت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ وزیراعظم نے مذاکرات کے حوالے سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل نے مذاکرات میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے، جو تاریخ میں یاد رکھا جائیگا۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کوششوں کا بھی ذکر کرنا چاہوں گا، جو مسلسل اپنے ہم منصبوں سے رابطے میں رہے اور بھرپور کوششیں کرتے رہے۔گزشتہ سال مئی میں پاک بھارت تصادم کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر صدر ٹرمپ مداخلت نہ کرتے تو دنیا جنوبی ایشیا میں ایک بڑی تباہی دیکھ سکتی تھی اور شاید کوئی زندہ نہ بچتا جو بتاسکتا کہ کیا ہوا۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے، جس میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان، بی ایل اے اور دیگر گروہ شامل ہیں۔وزیراعظم نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کو مجبوری قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کابل کو بارہا امن کے پیغامات بھیجے، لیکن اگر ہمارے معصوم لوگ مارے جا رہے ہوں تو ہم خاموش نہیں رہ سکتے، حالیہ عرصے میں ہم نے سیکڑوں اپنے جوان کھوئے ہیں، ایسے میں آپ کیا کریں گے؟ ہم نے کابل کو بارہا امن کے پیغامات بھیجے کہ ہمیں ہمیشہ پڑوسی بن کر رہنا ہے، ہماری دو ہزار کلومیٹر سے زیادہ مشترکہ سرحد ہے، اگر امن ہوگا تو دونوں ممالک خوشحال ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری صرف ایک درخواست تھی کہ وہ اس بات کی ضمانت دیں کہ دہشت گرد گروہوں کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ایسی صورت میں ہم کیا کریں؟ کیا ان لوگوں کے ساتھ کھانا کھائیں جب کہ ہمارے بے گناہ شہری مارے جا رہے ہوں؟ دہشت گردی کا داغ پاکستان کے چہرے سے مٹانا ہمارا غیر متزلزل عزم ہے۔ یہ جنگ ہم صرف پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے لڑ رہے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔