تحریر: ندا ابرار
@Nid_z0
سچ ہے کہ جب تک انسان پرخود نہ بیتے اسے کسی کی تکلیف کا اندازہ نہیں ہوسکتا ۔ سنتے تھے سندھ میں کتے کے کاٹے انجکشن نہ ہونے کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر کسی کی جان نکل گئی بڑا دکھ محسوس ہوتا تھا لیکن وہ تکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی جو اس ٹائم وہ تڑپتا ہوا شخص اوراس کے ساتھ اس کے پیارے محسوس کرتے وہ بے چارگی اور لاچارگی محسوس نہیں ہوتی تھی جو اس دوران اس سے جڑے محبت کے رشتہ محسوس کرتے ہوں گے لیکن اب یہ سب محسوس ہو رہا ہے۔ میں اس ٹائم چک شہزاد کے ایک ہسپتال میں بیٹھی اپنی بہت پیاری عزیزہ کو آئی سی یو میں مشکل سے سانس لیتا دیکھ رہی ہو اور ان کے ساتھ بے شمار ان مریضوں کو دیکھ رہی ہوجن کے عزیز اس دنیا سے بے خبر اپنے پیاروں کو بچانے کے لیے ادھر ادھر بسی اور لاچارگی سے بھاگ رہے ہیں جن کی واحد امید یہ ڈاکٹرز ہیں ۔ لکھتے لکھتے تسلسل ٹوٹ جاتا ہے آنکھوں سے پانی رواں ہوتا ہے کبھی کسی مریض کے تکلیف سے چلانے کی آواز اتی ہے تو کبھی کسی بے بس بیٹے ، بیٹی ، بھائی ، بہن کے منہ چھپا چھپا کے رونے کی لیکن میں کیا لکھوں گی وہ سب جو ہمارے ملک کا میڈیکل سسٹم عوام کو برداشت کرنے پرمجبورکرتا ہے اور جو ہمارے قریبی رشتہ معاشرتی رسم رواج کی وجہ سے مجبورکرتے ہیں ۔ اس میں غلطی تو سب کی ہے میری آپ کی ان رسم رواج کی اور پھر پاکستان کے بےحس طبی نظام کی ۔ اگر میں یہ کہوں کے بے بسی اور لاچارگی سے دنیا سے جانے والوں کا لہو کس کے ہاتھوں میں تلاش کرو تو ان میں سے کوئی ایسا نہیں ہو گا جو قصور وار نہ ہو۔ ہمارا معاشرتی نظام کورونا جیسی جان لیوا اوروبائی بیماری کے دور میں بھی چاہتا ہے شادی ، عید ، مرنے یہاں تک کے بیمار کی عیادت کے لیے بھی سب آئیں اگر کوئی رشتہ دار نہیں پہنچا تواس سے باقائدہ گلہ کیا جاتا ہے ۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ بیماری کے لگنے سے شاید آپ کو نقصان نہ ہو لیکن کوئی ایسا ہوسکتا جس کی قوت مدافیت اس بیماری سے لڑنے کی اہل نہ ہو۔ یہ جو میری عزیزہ اندر وینٹیلٹر پر ہیں ابھی عید پر خوش و خرم صحت مند میرے ساتھ تھیں ان کا قصور صرف اتنا رسم و رواج کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے عیادت کے لیے چلی گئی اگر نہ جاتی تو رشتوں کو صحیح طرح نبھانے کا ٹھپہ لگ جاتا ۔ ہم لوگ اتنے بےحس لوگ ہیں جو یہ نہیں سوچتے کہ ہماری بیماری کسی اورکو بھی لگ سکتی ہے ہم سوچتے ہیں تو صرف یہ ہیں کہ بیماری میں ہمارے گھر آیا کون یا ہماری خدمت کس نے کی ۔ بیماری تو ایک طرف ہم تو میت پر بھی اس بات کا دھیان رکھتے ہیں کہ جنازے پرپہنچا کون اس نے کھایا یہاں تک کہ کپڑے تک دیکھتے ہیں کون سے پہنے دوسری طرف بات کریں اگرہمارے میڈیکل سسٹم کی تو وہ ہمارے معاشرتی رویوں سے بھی گیا گزرا ہے اگر میں کہوں کہ ہمارے میڈیکل سسٹم میں ڈاکٹر کم اور قصائی زیادہ ہے تو غلط نہ ہوگا ۔اگر میں کہوں کہ ہمارے ہسپتالوں میں انسانوں کو انسان نہیں جانور سمجھ کر علاج کیا جاتا ہے تو غلط نہ ہوگا اگر میں کہوں کہ ملک کو کھانے والے سب مافیاز میں سے میڈیکل مافیا سب سے بڑا ہے تو غلط نہ ہوگا جہاں ایک ایم بی بی ایس کرنے والا خود کو فرعون سمجھنے لگتا ہے۔ جہاں فارما انڈسٹری والے جان بچانے والی ادویات کی قلت کرکے لوگوں کو انتہائی مہنگے داموں کالے بازار سے لینے پر مجبورکرتے ہیں ۔ ایسا میڈیکل سسٹم جس میں مریض کے گھر والے ڈاکٹر کی خوشامدی کرنے اور اس سے اپنے مریض کے بارے میں کوئی سوال نہ پوچھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ کہیں ڈاکٹر صاحب سے سوال کر دیا تو برا مان کر مریض کو غلط ٹریٹ نہ کر دیں۔ اس میڈیکل سسٹم میں کچھ ہم جیسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کو پیسوں کا اتنا مسئلہ نہیں ہوتا بس دوائی ٹائم سے نہ ملنے کی وجہ سے ان کا مریض نازک پوزیشن میں چلا جاتا ہے ۔ حیرت ہے اس بات کی کہ جو ڈاکٹر مریض کو دیکھ رہا ہوتا ہے اس کو یہ نہیں پتا ہوتا کہ مریض کو جو دوا چاہیے وہ ملے گی کہاں سے گھر والوں کو پرچی تھما کر بس یہ کہہ دینا کہ یہ لا دیں تو شاید آپ کا مریض بچ جائے یہ ناقص میڈیکل پروفیشن کی علامت ہے۔ پچھلے اڑتالیس گھنٹے ہمارے پورے خاندان میں کسی اذیت سے کم نہیں گزارے ہاتھ میں پیسے پکڑے 24گھنٹے ہم صرف لوگوں کو فون انجکشن تلاش کرتے رہے اورجب تک انجیکشن ملا پانی سرسے اوپر جاچکا تھا پھپھڑے ساٹھ فیصد ختم ہو چکے تھے اب وہ وینٹیلیٹر پر اور ہم معجزے کے انتظار میں ۔ ان سب حالات میں ابھی میں ہسپتال کی ایک کرسی پر بیٹھی یہی سوچ رہی ہو کہ پیسے ہوتے ہوئے ہمارا یہ حال ہوا وہ لوگ جن کے پاس پیسے نہیں ہیں ان کے مریض کو تو ڈاکٹر اسی لیے لاوارث چھوڑ کر مار دیتے ہیں۔جس ملک میں ڈاکٹر پیسے کمانے کے لیے بنا جاتا ہے وہاں انسانیت کی خدمت کا سوال پیدا نہیں ہوتا ۔
