پورٹ آف سپین(آئی پی ایس )پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان 2 ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کے پہلے مقابلے کا آغاز ٹرینیڈاڈ کے برائن لارا اسٹیڈیم، ٹاروبا میں ہوگیا، جہاں ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے تحت کھیلے جانے والے اس اہم میچ میں میزبان ٹیم نے پہلے بیٹنگ کو ترجیح دیتے ہوئے پاکستانی بالرز کو ابتدائی سیشن میں میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا۔پاکستانی ٹیم کی قیادت بابر اعظم کر رہے ہیں، جبکہ ٹیم میں ازان اویس، امام الحق، شان مسعود، محمد رضوان، سلمان آغا، عامر جمال، علی عثمان، خرم شہزاد، محمد علی اور محمد عباس بھی شامل ہیں۔
پاکستانی ٹیم کی کوشش ہوگی کہ مضبوط بالنگ کے ذریعے ابتدا ہی میں ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ لائن کو دبا میں لایا جائے اور میچ پر گرفت مضبوط کی جائے۔میزبان ویسٹ انڈیز کی قیادت آل رانڈر روسٹن چیز کر رہے ہیں۔ ٹیم میں ٹیگنرائن چندرپال، برینڈن کنگ، کیوم ہوج، شائے ہوپ، عامر جنگو، جسٹن گریوز، کیمار روچ، جومیل واریکن، شمر جوزف اور جیڈن سیلز شامل ہیں۔ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ لائن سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ہوم گرانڈ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پہلی اننگز میں بڑا مجموعہ ترتیب دینے کی کوشش کرے گی۔
پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان اب تک 56 ٹیسٹ میچ کھیلے جا چکے ہیں، جن میں پاکستان کو واضح برتری حاصل رہی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے 22 ٹیسٹ میچ اپنے نام کیے ہیں، جبکہ ویسٹ انڈیز 19 مقابلوں میں کامیاب رہا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان 15 ٹیسٹ میچ بغیر نتیجہ ختم ہوئے۔یہ ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلے ہمیشہ سخت رہے ہیں، تاہم مجموعی طور پر پاکستان کا پلڑا نسبتا بھاری رہا ہے۔
یہ میچ صرف 2 طرفہ سیریز کا حصہ نہیں بلکہ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے پوائنٹس کے لحاظ سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔دونوں ٹیمیں سیریز کا فاتحانہ آغاز کرنے کے لیے پرعزم ہیں، کیونکہ ابتدائی کامیابی نہ صرف اعتماد میں اضافہ کرے گی بلکہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کی دوڑ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے اور دونوں ٹیموں کے درمیان متعدد یادگار مقابلے کھیلے جا چکے ہیں۔
اگرچہ ماضی کے اعداد و شمار پاکستان کے حق میں ہیں، لیکن ویسٹ انڈیز اپنی سرزمین پر ہمیشہ سخت حریف ثابت ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹاروبا میں شروع ہونے والی دو ٹیسٹ میچوں کی اس سیریز کو دونوں ٹیموں کے لیے نہایت اہم تصور کیا جا رہا ہے، خصوصا ایسے وقت میں جب ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا ہر میچ پوائنٹس ٹیبل پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔
