Wednesday, June 10, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومکالم وبلاگزبلاگز‏خود پر ایک نظر

‏خود پر ایک نظر

تحریر: سجاد حسین قمر
‏ ‎@SajjadHQamar
اپنی ایک ہفتے کی ہر ایک ایک مصروفیات کو اپنی ڈائری پر لکھیں وہ منفی ہو یا مثبت، ایک ہفتے کے بعد ایک صفحے پرلائن لگا کرایک طرف اپنی مثبت اور دوسری جانب اپنی منفی مصروفیات درج کریں اب خود جائزہ لیں کہ کس مصروفیت سے آپ کشیدگی اور مایوسی کا شکارہوئے اور کس سے آپ کو حوصلہ ملتا ہے یا آپ کا دن اچھا گزرتا ہے۔ اب جس کے اثرات مثبت ہیں اس پر توجہ بڑھا دیں جس کے اثرات منفی ہیں اس کو ترک کر دیں ہم صبح اٹھنے سے لے کر رات سونے سے پہلے تک لوگوں کی کردار کشی میں مصروف رہتے ہیں۔ ہم لوگوں کی برائیاں کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنے کی بجائے ان کے ساتھ برابر کے حصہ دار بنے ہوتے ہیں۔ ہم ہر آتے جاتے شخص کی راہ دیکھتے رہتے ہیں ہم کسی کی درگت بنانے کے چکر میں لگے رہتے چاہے وہ اپنے محلے کا کوئی شخص ہو یا کوئی نامی گرامی بندہ۔
ایسا کیوں ہے! کیا لوگ اخلاقیات کے بنیادی تقاضوں کو خود میں ڈھالنے سے عاری رہے ہیں یا جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں؟ ہم نے اپنے اسلاف کے دئیے ہوئے اسباق کو پس پشت ڈال رکھا ہے۔ اس کی بہت ساری وجوہات میں ایک وجہ ہماری ہر گزرتے دن کے ساتھ گرتی ہوئی اخلاقی قدریں ہیں کسی بھی قوم کی اخلاقیات کواس کے حکمران اور دیگر اکابرین رہنمائی کرتے ہیں مگر جہاں اعلیٰ عہدیدار چھوٹی سی بات پر کسی کا مذاق اڑانے کو کار ثواب سمجھتے ہوں وہاں ہم کیسے امید رکھ سکتے ہیں کہ عوام الناس پر ان کی ایسی باتیں اثر نہیں کرتی ہوں گی؟ جہاں آپ کے معتبرلوگ کسی کی شکل و صورت، کسی کے لباس کے مخصوص انداز، کسی کے بولنے اور یہاں تک کہ چلنے پھرنے کی بھی باقاعدہ نقلیں اتارتے ہوئے پائے جائیں تو سماج کی ذہنیت پراس کا کیا اثر پڑتا ہوگا اس کا مشاہدہ آپ خود کرسکتے ہیں۔ معاشرے کے اخلاقی معیار کو بہتر بنانے کی بجائے سب اس کو مزید نیچے لے کر جا رہے ہیں یہ ایک ایسا المیہ ہے جس کے اثرات ایک لمبے عرصہ تک محسوس ہوتے رہیں گے۔ ہم اس مذہب کے ماننے والے ہیں جس میں کسی کا نام لے کر براہ راست تنقید کرنے کو سختی سے منع کیا گیا ہے۔ ہمارے اسلاف نے معاشرے میں نفرت اور اخلاقی اقدار کی گراوٹ کی حوصلہ شکنی کی اور معاشرے میں محبت اور باہمی رواداری کو فروغ دیا۔ آج ہمیں اردگرد نفرت کے کانٹوں کو چن کر وہاں پیارکے پھول برسانے کی ضرورت ہے ایک دوسرے کی رائے کے احترام کی ضرورت ہے۔ اپنے اخلاق کو اس سطح پر لیکرجائیں جہاں نفرت کی کوئی گنجائش نہ ہو جہاں جھوٹ اوربددیانتی کی کوئی گنجائش صفرسے بھی نیچے کے درجے پرچلی جائے۔ اس بات کو نظراندازکردیں کہ فلاں نے ایسا کیا بلکہ اس بات کی فکرکریں کہ اخلاقیات کو بہتر بنانے میں میرا کیا کردارہوسکتا ہے۔
جگر مراد آبادی نے کیا خوب کہا ہے
وہ ادائے دلبری ہو، کہ نوائے عاشقانہ
جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔