Monday, May 18, 2026
ہومکالم وبلاگزبلاگزپاکستانی آدھے تیتر آدھےبٹیر

پاکستانی آدھے تیتر آدھےبٹیر

تحریر: ملک محمد اسد
‎@Asadyaat
پاکستان، مملکت خداداد، جو اسلام کے نام ہربلکہ کسی بھی نظریہ کے نام پر بننے والی ریاست مدینہ کے بعد دنیا کی دوسری ریاست ہے ہمارے اجداد نے اپنے جان و مال اورعزت وآبروکی قربانیاں دے کراس ریاست کوایک ہی نظریہ سے قائم کیا کہ یہاں اسلامی اقدارکی پرورش کی جائے گی اسلام کی تجربہ گاہ اس ریاست میں یوں توبہت کچھ ایسا ہورہا ہے کہ خداہ کی پناہ لیکن آج جس موضوع پر بات کرنے جا رہا ہوں وہ معاشرے کی اکائی یعنی خاندان ہے، ایک خاندان جو “میاں اور بیوی” کے ذریعے تشکیل پاتا ہے، اس کی حیثیت کسی بھی معاشرے میں انتہائی اہم ہوتی ہے. یہاں جب ہم اسلام کی بات کرتے ہیں تومیں مجموعی طور پرمعاشرے اورمرد و زن کے کردار کی بھی بات کروں گا۔ برصغیر میں اسلام پہنچا، اکثریت لوگ جو اب مسلمان ہیں ان کے آبا و اجداد یا تو ہندو تھے یا کسی دیگر مذہب سے، پاکستان میں بھی ایسے ہی لوگوں کی اکثریت ہے جن کے آبا و اجداد غیر مسلم تھے، یہ بری بات بالکل بھی نہیں، بلکہ اللہ کا تحفہ ہے جو ہمیں ایمان کی صورت ملا، لیکن کیا ہم اسلام پر مکمل ایمان لائے؟
تو جواب ہے نہیں،
اب آپ کہیں گے کہ اسلام کے سارے ارکان کو مانتے ہیں، ختم نبوت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کامل یقین رکھتے ہیں تو پھر کیسے کہا جاسکتا ہے کہ اسلام کو نہیں مانتے؟ تو میں کچھ اس طرح سے اپنا نقطہ بیان کروں گا۔ دراصل ہم نے اسلام اپنایا تو ہے، ایمان لائے تو ہیں اللہ کی وحدانیت کی قائل تو ہوئے لیکن اس کے احکامات پر عمل پیرا نہ ہوئے، نبی کریم خاتم النبیین آقا دو جہاں سرکار دو عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے امتی تو بن گئے لیکن شریعت محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو صرف اپنے مفاد کی حد تک رکھا، جہاں اپنا مقصد حل ہوتا ہو وہاں شریعت اپنالی وگرنہ منہ پھیر لیا۔ ہم وہ قوم بن گئے جو زبان پر تو کلمہ طیبہ کا ورد رکھتی ہے لیکن دل و دماغ میں ہندو عقائد بسے ہوئے ہیں، جینا تو ہم مغربی انداز سے چاہتے ہیں لیکن موت ہمیں مکہ یا مدینہ میں درکار ہے، سنتے ہم سارا دن بے ہنگم و بے حیا موسیقی ہیں لیکن بوقت مرگ کلمہ نصیب ہونے کی خواہش رکھتے ہیں، دیکھتے ہم فحش فلم ہیں لیکن دیدار ہمیں دنیا کی پاک ترین ہستیوں کا چاہیے
یہی کچھ حالات ہمارے خاندانی نظام کی بھی ہیں، جہاں ہم نکاح تو شریعت کے مطابق کرتے ہیں لیکن بعد کی زندگی دور جہالت سے بھی بدترگزارے ہیں، جو دونوں مرد و عورت کے لیے اجیرن ہوجاتی ہے، اس کی وجہ ہمارے معاشرے کا بگاڑ ہماری ہندوآنہ رسم و رواج ہیں اور رہی سہی کثر طلاق مافیا کے ڈرامے نکال دیتے ہیں
ایک مرد کو اسلام چار نکاح کی اجازت دیتا ہے بشرطیکہ ان میں انصاف کرسکے، لیکن ہمارے یہاں مرد اس معاملے پر شریعت کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے اس اجازت کا کھلواڑ بناتے ہیں جبکہ مرد کی نیت صاف ہو یا کوئی مجبوری ہو تو عورت روایات کا سہارا لے کر مرد کو کہیں کا نہیں چھوڑتی، یہاں عورت اپنے شوپر کی چار پانچ گرل فرینڈز تو یہ کہہ کر برداشت کرلے گی کہ مرد ایسا ہی کرتے ہیں، اور عورت نہیں اس کا خاندان بھی اس پر اعتراض نہیں کرے گا، لیکن وہی مرد کسی جائزمجبوری کی بنا پر بھی دوسری شادی کرنے کی خواہش کرے یا کرلے تو اسکی زندگی کو جہنم بنادیا جائے گا، ارے بھئی دوسری شادی اتنا بڑا گناہ ہوتی تو شریعت میں اس کی اجازت ہی کیوں ہوتی؟ بلکہ کچھ علماء کا تو خیال ہے کہ صرف اجازت نہیں ایک سے زائد نکاح کرنے کی ترغیب بھی ہے، چلیں اس سے آگے چلتے ہیں، وہی مرد جو ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کے لیے شریعت کا سہارا لیتا ہے، بہنوں کو جائداد میں حصہ دینے کی بات آئے تو شریعت ایک طرف رکھ دی جاتی ہے، اس سے بھی آگے چلیں تو ہر مرد کو ایک سے زائد شادیاں کرنے کی خواہش ہوتی ہے لیکن کوئی مرد اپنی بہن بیٹی حتیٰ کہ ماں پر سوتن برداشت نہیں کرنا چاہتا. ہمارے معاشرے میں خصوصاً پنجاب اور سندھ میں تو حالات یہ ہیں کہ کسی مرد کی بیوی فوت ہو جائے وہ صاحب اولاد ہو اور دوسری شادی کرلے تو بھی اسے معاشرے کے لوگ طعنے مار مار کے آدھا کر دیتے ہیں، بھئی نکاح ہی کیا ہے زنا تو نہیں کیا؟ لیکن یہاں مرد اپنے ناجائز تعلقات تو چوک چوراہے میں اکڑ اور اترا کر بتا سکتے ہیں لیکن ایک اضافی جائز نکاح کا ذکرتک نہیں کرسکتے۔
ایسا کیوں ہے؟ کیونکہ ہم چاہے مسلمان ہوچکے ہیں لیکن ہماری سوچ ابھی بھی ہندو ہے، ہمارا معاشرہ ظاہری طورپر تومسلمان ہوچکا ہے لیکن معاشرے کے افراد اسلام پر عمل پیرا نہیں۔کب تک معاشرے میں ایک سے زائد نکاح کا رواج نہیں ڈالا جاتا معاشرے سے زنا کا خاتمہ قطعاً ممکن نہیں، نہ ہی یہ طلاق اور گھر ٹوٹنے کا سلسلہ روکنا ممکن ہے جو پرائیویٹ ڈرامہ چینلز آنے کے بعد زور پکڑچکا ہے اور یہ سب کچھ خاندانی اکائی بچانے کے لئے ناگزیر ہے جو صرف اسلام پرعمل پیرا ہو کر بچائی جاسکتی ہے
اللہ پاک ہمیں اسلام اپنانے کے ساتھ ساتھ اسلام کی اصل روح پرعمل پیرا ہونے کی بھی توفیق دے
آمین ثم آمین

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔