نام: محمد خرم
@KhurramCaptain
محمد بن قاسم نے جب دیبل پرحملہ کیا تو ان کے کوئی سیاسی مقاصد تھے نہ ان کی کوئی دشمنی تھی۔ان کا مقصد صرف ان مظلوم مغویوں کو رہائی دلانا تھا جو راجہ داہر نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر قید کئے تھے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ابن قاسم نے اس وقت کی سپر پاور راجہ داہر کو نہ صرف شکست دی بلکہ مظلوم قیدیوں کو بھی رہا کرایا۔ اسلام ایک انسان کی جان بچانے کو پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف قرار دیتا ہے۔
آج دنیا میں لاکھوں مسلمان کٹ رہے ہیں مگر کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ اس وقت 57 مسلم ممالک اپنی دنیا میں مصروف ہیں انہیں صرف اپنی جائیدادیں بنانے کے سوا کوئی اور کام نہیں فلسطین ‘ شام’عراق’ برما ‘ اورمقبوضہ کشمیر کے مسلمان انتہائی اذیت بھری زندگی گذار رہےہیں۔مگر کسی بھی مسلم ملک کو ان کی پرواہ نہیں۔ خاص کر مقبوضہ کشمیر کے مسلمان تو درد و الم کی داستان بنتے جا رہے ہیں۔ بھارتی فوج کی طرف سے ظالمانہ کرفیو کو نافذ ہوے دو سال کا عرصہ ہوچکا ہے۔ آپ ذرا تصور کریں کہ لاک ڈاؤن میں ہمیں کس پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مگر ہمیں ان کشمیری بھائیوں کے حوصلے کو داد دینی ہوگی جو اس ظالمانہ کرفیو میں اذیت بھری زندگی گزاررہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیرکے بھائیوں کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں۔ کیا آج 57 اسلامی ممالک میں کوئی ایسا لیڈر نہیں جو کشمیر میں یہ ظالمانہ کرفیو ختم کراسکے؟
مقبوضہ کشمیرکے مسلمان اللّٰہ کے بعد عالم اسلام کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ کوئی محمد بن قاسم آے اور انہیں رہائی دلائے انکی سب سے ایک ہی التجاء ہےکہ’ میرا کشمیر جل رہا ہے’ جل رہا ہے۔

