تحریر: ارشاد خان
@i_irshad_
انسان کہنے کو تو ایک لفظ ہے لیکن اس بارے میں اللہ پاک کیا ارشاد فرماتا ہے، ذیل میں چند آیات پیش کرتا ہوں۔
1-
ﻟَﻘَﺪْ ﺧَﻠَﻘْﻨَﺎ ﺍﻟْﺈِﻧﺴَﺎﻥَ ﻓِﻲ ﺃَﺣْﺴَﻦِ ﺗَﻘْﻮِﻳﻢٍ
( ﺍﻟﺘﯿﻦ، 95 4 / )
’’ ﺑﯿﺸﮏ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ( ﺍﻋﺘﺪﺍﻝ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﺍﺯﻥ ﻭﺍﻟﯽ ) ﺳﺎﺧﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ۔
2-
وَمِنْ اٰيَاتِهٓ ٖ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُـمَّ اِذَآ اَنْتُـمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ (20)
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہیں مٹی سے بنایا پھر تم انسان بن کر پھیل رہے ہو۔
سورة الروم
3-
اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَاَنْتُـمْ تَتْلُوْنَ الْكِتَابَ ۚ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (44)
کیا لوگوں کو تم نیکی کا حکم کرتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو، پھر کیوں نہیں سمجھتے۔
البقرة
4-
يَاأَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔
اے لوگو اپنے اس پروردگار کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور ان لوگوں کو پیدا کیا جو تم سے پہلے گزرے ہیں تاکہ تم متقی بن جاؤ
سورة بقرة (21)
5-
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنِ: (الذّٰریٰت)
اور ہم نے جنوں اور انسانوں کو پیدا ہی صرف اس لیے کیا ہے کہ ہماری بندگی کریں۔
6-
يَآ اَيُّـهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيْمِ :
الانفطار (6)
اے انسان تجھے اپنے رب کریم کے بارے میں کس چیز نے مغرور کر دیا۔
7-
اَلَّذِىْ خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ (7 الانفطار )
جس نے تجھے پیدا کیا پھر تجھے ٹھیک کیا پھر تجھے برابر کیا۔
8-
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّـٰهِ وَبِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا هُـمْ بِمُؤْمِنِيْنَ (8)
اور کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لائے حالانکہ وہ ایمان دار نہیں ہیں۔
( البقرة )
9-
وَمِنْ اٰيَاتِهٓ ٖ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُـمَّ اِذَآ اَنْتُـمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ (20)
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہیں مٹی سے بنایا پھر تم انسان بن کر پھیل رہے ہو۔
سورة الروم
یہ تمام آیات حضرت انسان کے لئے ہیں انہی آیات میں ہماری پہچان چھپی ہوئی ہے۔
فی زمانہ جب میں حضرت انسان کے کرتوت دیکھتا ہوں تو خود سے کہتا ہوں انسان کہاں ہیں ہم کہیں ہم دو پیروں پر چلنے والے جانور تو نہیں جو ہمارے اعمال اور کردار ہیں۔
ہمارے لئے اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا
مفہوم ہے کہ۔
میں نے انسان کو اپنا نائب بنا کر زمین پر بھیجا ہے۔
اب ہزاروں لاکھوں مخلوقات میں صرف انسان ہی ہے جس کے لئے اللہ نے نائب کا لفظ منتخب کیا۔
لیکن…!
انسان کہاں ہیں؟؟؟
میرے دل سے ابتک نور مقدم کے قتل کی واردات کا خوف نہیں نکل سکا کوئی کچھ کہہ رہا اور کوئی کچھ کہہ رہا ہے، جتنی منہ اتنی ہی باتیں جن دو خاندان کے بیچ یہ ہوا ہے ان کے لئے یہ کوئی بات ہی نہیں لگ رہی اور قاتل کو سائیکو کیس بنا کر پیش کیا جا رہا ہے مقتول کے لواحقین خاموش ہیں کوئی جدوجہد نظر نہیں آ رہی ہے ارے کیوں بھول جاتے ہو کہ لرزہ خیز قتل تھا وہ بھی انسان ہی تھا کوئی جانور نہیں۔.
