Sunday, May 31, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومکالم وبلاگزبلاگزاز ہر ہند دارالعلوم دیوبند پر طائرانہ نظر

از ہر ہند دارالعلوم دیوبند پر طائرانہ نظر

تحریر: محمد صابر مسعود

@sabirmasood_

ضلع سہارنپور میں واقع ایک قصبے ( نانوتہ )کے رہنے والے حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ نے 30مئی1866ء بمطابق 15محرم الحرام1283ھ کو دیوبند کی ایک چھوٹی سی مسجد (مسجد چھتہ) میں ازہر ھند دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی۔ اس نیک کام میں انہیں مولانا محمود الحسنؒ (شیخ الہند) کے والد صاحب مولانا ذوالفقار علی صاحبؒ اور مولانا شبیر احمد عثمانیؒ کے والد محترم مولانا فضل الرحمن صاحبؒ کا عملی تعاون حاصل رہا۔
روزِ اول سے ہی دارالعلوم دیوبند ہر نت نئے ابھرنے والے فرقے کو دنداں شکن جواب دیتا رہا ھے خواہ وہ مولانا احمد رضا کی شکل میں ھو یا شکیل بن حنیف جیسے ناقص العقل کی شکل میں، یہود و نصاری کی شکل میں ہو یا جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کی شکل میں الغرض جو بھی قرآن و سنت کے خلاف چلا الحمدللہ دارالعلوم دیوبند نے اس کا جم کر مقابلہ کیا اور انشاء اللہ کرتا رہے گا
علاوہ ازیں سینکڑوں مفسرین، محدثین، مجاہدین، ادیب اور تلامذہ کو جنم دے چکا ہے۔ جن میں سر فہرست مولانا محمود الحسنؒ جیسے فقیہ (جن کی قیادت میں آزادئ ہند کے لئے اس وقت تحریک شروع ہوئی، جب ہندوستان کی آزادی کے لیے ملک میں کسی بھی تحریک کا شائبہ تک نہ تھا، ملک کی آزادی کے لئے انھوں نے ہر طرح کی قربانیاں دیں، قید وبند کی تکالیف برداشت کیں، پھانسیاں دی گئیں، کالاپانی بھیجے گئے، برادرانِ وطن کودعوت دی اور ان کے ساتھ مل کر ملک کو آزاد کرانے میں پیش پیش رہے، ان کی تحریک کو ریشمی رومال کے نام سے یاد کیا جاتا ہے)، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ جیسے مفسر قرآن ( جن کی پوری زندگی خدمت اسلام میں گذری، آپ کے کردار نے مسلمانوں میں زندگی کی روح دوڑادی تھی، سیاسی و ملکی خدمات میں آپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، تحریک خلافت میں آپ جمیعت علمائے ہند کی مجلس عامہ کے زبردست رکن تھے، مسلم لیگ میں شریک ہو کر تحریک پاکستان کو تقویت بخشی اور ایک جماعت “جمیعت علمائے اسلام“ کے نام سے تشکیل پائی جس کے پہلے صدر آپ منتخب ہوئے، کشمیر کی جدوجہد و آزادی میں بھی نمایاں حصہ لیا، پاکستان کی قومی اسمبلی کے ارکان ہونے کے باعث آپ نے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں قانون اسلامی کی تجویز “قرارداد مقاصد“ کے نام سے پاس کرائی۔
غرض یہ کہ تحریک پاکستان میں اگر ایک طرف دنیاوی حیثیت کے لوگوں کی خدمات ہیں تو دوسری طرف اتنی ہی علامہ شبیر احمد عثمانی کی دینی خدمات ہیں، مولانا اشرف علی تھانویؒ جیسے حکیم الامت ، مولانا عبید اللہ سندھیؒ جیسے مرد مجاھد، مولانا حسین احمد مدنیؒ جیسے سیاسی اور سید انور شاہ کشمیریؒ جیسے ذہین وفتین سر فہرست ہیں جنہوں نے جنوبی ایشیا اور جنوبی ایشیا سے باہر شمع اسلام کو روشن کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی شمع سے شمع روشن کرنے کی یہ روایت اور سلسلہ ہنوز جاری ہے اور ان شاء اللہ تاقیامت جاری رہے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔