اسلام آباد،وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ ایک ہزارسی سی تک گاڑیوں پرٹیکس میں کمی کر دی، فوڈ آئٹمز پر ٹیکس واپس لے لیے۔قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ حکومت سنبھالی تو سب سے بڑا چیلنج کرنٹ اکاونٹ خسارہ تھا، ماضی میں جو گروتھ دکھائی گئی وہ قرض لے کر ہوئی۔ احساس وزیراعظم کا فلیگ شپ پروگرام ہے، ہرشہری بینک سے گھر بنانے کیلئے قرض لے سکتا ہے۔ میری گاڑی کی مد میں اسکیم متعارف کرائیں گے، انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس پرکوئی ٹیکس نہیں ہوگا، موبائل فون پر 5 منٹ سے زیادہ کالز پر 75 پیسے ٹیکس ہوگا، آئی ٹی فرمز پر ٹیکس زیرو کر دیا۔ شوکت ترین نے کہا کہ دودھ پر ٹیکس ختم کر دیا، آٹے اور اس سے متعلقہ مصنوعات پر کوئی ٹیکس نہیں، پولٹری فیڈ پر ٹیکس 17 سے 10 فیصد کر دیا، زراعت کی ترقی پر 25 ارب اضافی خرچ کریں گے، اسپیشل ٹیکنالوجی زون بھی بنا رہے ہیں۔ پراپرٹی پر ٹیکس کی شرح 35 سے کم کر کے 20 فیصد کر دی ہے۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ سونے کی ویلیو ایڈیشن پر ٹیکس کی شرح 17 فیصد رہے گی، ٹیکسٹائل اشیا پر ٹیکس 12سے کم کر کے 10فیصد کر دیا، سرکاری ملازمین کے میڈیکل پر بھی ٹیکس ختم کر دیا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ ہم نے آئی ایم ایف کو بھی بتادیا کہ عوام پر مزید ٹیکس کا بوجھ نہیں ڈالا جائیگا، آئی ایم ایف نے 700 ارب ٹیکس لگانے کی تجویز دی تھی۔شوکت ترین کاکہنا تھا کہ موبائل فون پر 5 منٹ کی کال کے بعد 75 پیسے ٹیکس ہوگا،انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا . وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا حکومت سنبھالی تو سب سے بڑا چیلنج کرنٹ اکاونٹ خسارہ تھا،آئی ایم ایف کے نئے ٹیکس لگانے کے مطالبے کی مخالفت کی اور مسترد کیا، اس صورتحال میں آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوا کوئی حل نہیں تھا۔شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ایک ہزار سی سی تک گاڑیوں پر ٹیکس کی چھوٹ اور فوڈ آئٹمز پر ٹیکس واپس لے لیے گئے، آئی ٹی فرمز پر ٹیکس زیرو کر دیا.آئی ٹی شعبے کے تمام مطالبات تسلیم کیے ہیں. ان کا کہنا تھا کہ پولٹری فیڈ پر ٹیکس 17 سے 10 فیصد کر دیا گیا، آٹے اور اس سے متعلقہ مصنوعات پر کوئی ٹیکس نہیں، دودھ پر ٹیکس ختم کر دیا گیا، سرکاری ملازمین کے میڈیکل پر ٹیکس ختم کر دیا۔ٹیکسٹائل پر دی جانے والی مراعات آئندہ بھی جاری رہیں گی، میری گاڑی کے نام سے نئی اسکیم لارہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ زرعی اجناس کی فروخت کے لیے مڈل مین کا کردار ختم کردیاگیا ،زرعی اجناس کی فروخت کے لیے نیا نظام لارہے ہیں، آٹے اور اس سیمتعلقہ مصنوعات پرکوئی ٹیکس نہیں.زراعت کو 25ارب روپے زائد دیئے جارہیہیں ، ہمیں زراعت پر خصوصی توجہ دینا ہوگی،زرعی قرض دیئے جائیں گے۔اس سے قبل سینیٹ میں اپنے خطاب میں وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ڈیڑھ کروڑ ٹیکس نادہندگان کا ڈیٹا آ گیا ہے۔ٹیکس نادہندگان سے ٹیکس جمع کرنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ٹیکس نادہندگان کے خلاف تھرڈ پارٹی کی مدد لیں گے۔اس معاملے کوایف بی آر نہیں بھیجیں گے۔
حکومت نے آئی ایم ایف کی ٹیکس تجاویز مسترد کر دیں،عوام پر مزید ٹیکس کا بوجھ نہیں ڈالا جائیگا
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
