ہومپاکستانبجٹ 2021-22 میں پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے بلوچستان، جی بی، آزاد کشمیر اور کراچی کیلئے اسپیشل پیکجز کا اعلان ہو گا، تنخواہ دار طبقے کو ٹیکسز سے بچا کر امیروں پر ٹیکس عائد کئے جائیں گے،

بجٹ 2021-22 میں پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے بلوچستان، جی بی، آزاد کشمیر اور کراچی کیلئے اسپیشل پیکجز کا اعلان ہو گا، تنخواہ دار طبقے کو ٹیکسز سے بچا کر امیروں پر ٹیکس عائد کئے جائیں گے،

اسلام آباد،بجٹ 2021-22کے اہم اہداف سب نیوزنے حاصل کر لیئے۔ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں معاشی شرح نمو کا ہدف 5 فیصد رکھا جائے گا،توازن قائم کرنے کیلئے امیر طبقے کو دی گئی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا،احساس پروگرام کے ذریعے صحت انشورنس پروگرام کیلئے پیسے رکھے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے بلوچستان، جی بی، آزاد کشمیر اور کراچی کیلئے اسپیشل پیکجز کا اعلان ہو گا، 2017-18کا بحران ملکی تاریخ کا بد ترین بحران تھا، بجٹ 2021-22میں نئی منصوبہ بندی کے تحت غربت کے خاتمے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر فوکس ہو گا۔ ذرائع کے مطابق غربت کے خاتمے کیلئے احساس پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں کو امداد کی فراہمی جاری رہے گی جبکہ کمزور طبقے کیلئے کھانے پینے کی اشیا پر ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائے گی،کامیاب جوان اور بلا سود قرضوں جیسے پروگرام کو بھی بڑھایا جائے گا اورنئے بجٹ میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے پالیسی مرتب کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کے “اپنا گھر پروگرام” کو بڑھایا جائے گا، کنسٹرکشن انڈسٹری کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کیئے جائیں گے جبکہ ترقیاتی بجٹ کا ایک بڑا حصہ آبی ذخائر، سی پیک منصوبے اور بجلی کے ترسیلی نظام پر خرچ کیا جائے گا۔اسی طرح سمال اینڈ میڈیم انڈسٹری کیلئے نئی پالیسی متعارف کرائی جائے گی، برآمدات بڑھانے کیلئے بڑے پیمانے کی صنعت کو فروغ دیا جائے گا، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کے ذریعے معاشی گروتھ حاصل کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق زراعت کے شعبے میں انقلابی تبدیلیوں سے زراعی برآمدات بڑھائی جائیں گی، ٹیکس نظام میں اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی، ریوینو کا ہدف حاصل کرنے کیلئے نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے گا، انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ٹیکس نادہندگان کو شامل کر کے ٹیکس بیس بڑھایا جائے گا، ایف بی آر سے ٹیکس حراسمنٹ کو ختم کیا جائے گا، اداروں میں شفافیت قائم کرنے کیلئے بروقت رسک بیسڈ آڈٹ کیا جائے گا جبکہ تنخواہ دار طبقے کو ٹیکسز سے بچا کر امیروں پر ٹیکس عائد کئے جائیں گے، معاشی گروتھ کے حصول کیلئے نظام کی پیچیدگیوں کو ختم کیا جائے گا، ترجیحی سیکٹرز پر اخراجات بڑھائے جائیںگے، تمام آبادی کو ویکسین لگانے کیلئے ویکسین کی پیداوار اور درآمد پر پیسے خرچ ہونگے۔ذرائع کے مطابق سرکلر ڈیٹ ختم کرنے کیلئے بجلی اور گیس کے شعبے میں اصلاحات لائی جائیں گی، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت نئے منصوبے لگائے جائیں گے، چھوٹے طبقے کیلئے بجلی کے نرخوں پر سبسڈی دی جائے گی، سرکاری اداروں کے نقصانات کم کرنے کیلئے اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔