ہومبریکنگ نیوزبجلی چوری میں ملوث ہونے کے شبہ میں سینکڑوں سرکاری افسران کے تبادلے

بجلی چوری میں ملوث ہونے کے شبہ میں سینکڑوں سرکاری افسران کے تبادلے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) انتظامیہ نے بجلی چوری کے معاملے پر تقسیم کار کمپنیوں کے عملے کےخلاف بڑی کارروائی شروع کردی۔
تفصیلات کے مطابق سیکرٹری پاور راشد لنگڑیال نے بتایا کہ بجلی کی تقیسم کار کمپنیوں نے گریڈ 17سے 20کے 1937افسران کے تبادلے کردئیے جب کہ بری شہرت رکھنے والے248افسران کو ہیڈکوارٹرز بھیج دیا گیا۔
پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے 68بری شہرت کے افسران کو ہیڈ کوارٹر یا کم اہم جگہ پر تعینات کردیا۔ گریڈ 17کے 1290 ایس ڈی او اور آر اوز، گریڈ 18کے 533 ایکسینز اور ڈی سی ایمز جبکہ گریڈ 19کے 91اور گریڈ 20 کے 23افسران کو تبدیل کردیا گیا۔
لیسکو نے سب سےزیادہ 351گیپکو نے 142، فیسکو نے 201آفیسرز کو تبدیل کردیا۔ آئیسکو نے 221,میپکو نے314، پیسکو نے 307، حیسکو نے 122افیسرز، سیپکو نے 86، کیسکو نے 168اور ٹیسکو نے 35افسران کو تبدیل کردیا۔
ادھر ترجمان آئیسکو کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آئیسکو ریجن میں افسران کے بڑے پییمانے پر تبادلے کردیے گئے۔
مختلف کیڈرز کے 258 افسران کے تبادلے کئے گئے جن میں دو چیف انجینئر ، 11 سپرٹنڈنٹ انجینئرز ، 52 ایکسینز ، 171ایس ڈی اوز ، 6 ڈی سی ایم اور 5 ریوینیو آفیسرز شامل ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔