اسلام آباد (سب نیوز)جاپان میں ستمبر سے شروع ہونے والے ایشین گیمز کی بہترین تیاریوں کی غرض سے 2018 کی ایشین چیمپیئن ایرانی مردوں کی کبڈی ٹیم جمعرات کو اسلام آباد پہنچے گی۔
پاکستان کبڈی فیڈریشن کی دعوت پر منعقدہ اس مشترکہ کیمپ کا مقصد دونوں ٹیموں کو عالمی مقابلے سے قبل معیاری میچ پریکٹس فراہم کرنا ہے۔پاکستان کبڈی فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل محمد سرور کے مطابق ایرانی ٹیم 27 اگست تک اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں قیام کرے گی، جبکہ روزانہ کی بنیاد پر مشقیں اور پریکٹس میچز پاکستان اسپورٹس کمپلیکس کے رودہم ہال میں ہوں گے۔دونوں فیڈریشنز اس مشترکہ مشق کے دوران باقاعدہ ٹیسٹ سیریز کی میزبانی پر بھی غور کر رہی ہیں تاکہ کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو آزمایا جا سکے۔
پاکستان نے کیمپ کے لیے 16 رکنی قومی اسکواڈ کا انتخاب کیا ہے جس میں اکثریت نئے اور نوجوان کھلاڑیوں کی ہے۔چیف کوچ راحت مقصود، محمد ارشد اور حامد مختار کی زیرِ نگرانی تربیت پانے والی اس ٹیم کے صرف 2 ارکان گزشتہ ایشین گیمز کا حصہ تھے۔سیکریٹری پی کے ایف کا کہنا ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں میں آگے بڑھنے کا جذبہ موجود ہے اور ٹیم کی بحالی کے لیے یہ ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔محمد سرور نے کہا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان اور بھارت ایشین اور سرکل اسٹائل کبڈی پر حکمرانی کرتے تھے، تاہم اب ایران اور جنوبی کوریا کی مسلسل پیشرفت نے روایتی توازن کو بدل دیا ہے۔
ایران نے 2018 میں سونے، جبکہ 2014 اور 2023 میں چاندی کا تمغہ جیتا ہے اور وہ خطے کی کسی بھی مضبوط ٹیم کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔پاکستان ایشین گیمز میں کبڈی کے شعبے میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی تمغہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے، جس میں 1998 اور 2006 کے سلور میڈلز جبکہ 2018 اور 2023 کے برونز میڈلز شامل ہیں۔پاکستان فیڈریشن اس نوزائیدہ اسکواڈ کے ذریعے خطے میں اپنی کھوئی ہوئی روایتی بالادستی کو بحال کرنے اور آئندہ ایشین گیمز میں گولڈ میڈل کی جنگ لڑنے کے لیے کوشاں ہے۔
ایشین گیمز کی تیاریاں، ایرانی کبڈی ٹیم مشترکہ ٹریننگ کیمپ کے لیے جمعرات کو اسلام آباد پہنچے گی
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
