ہومبریکنگ نیوزموجودہ معاشی مسائل ایٹمی دھماکوں کے بعد بھی نہیں تھے،وزیرخزانہ

موجودہ معاشی مسائل ایٹمی دھماکوں کے بعد بھی نہیں تھے،وزیرخزانہ

اسلام آباد (سب نیوز)وزیر خزانہ اسحق ڈار کا کہنا ہے کہ اس وقت جو معاشی مسائل ہیں ایسے 1998 میں ایٹمی دھماکوں کے بعد بھی نہیں تھے جب آئی ایم ایف نے اپنا پروگرام بند کر دیا تھا۔ پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی گئیں، اس وقت آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی میں 8 ماہ کا وقت لگا تھا۔ قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحق ڈار نے کہا کہ ہماری کوششوں سے اب ٹھہراو آیا ہے، ہم نے ملک کو ترقی کی جانب لے کر جانا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں گھروں کی تعمیر اور بحالی کے لئے 16 ارب 30 کروڑ ڈالر کی ضرورت ہے جس میں سے 11 ارب ڈالر سندھ میں خرچ ہوں گے، ہم نے میثاق جمہوریت کی طرح میثاق معیشت کی بھی کوشش کی تا کہ ایک روڈ میپ بن جائے جس پر عمل پیرا ہو کر ہم معاشی بہتری کے سفر پر گامزن ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں میثاق جمہوریت میں بھی انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا، اس کے دو نکات کے علاوہ تمام نکات پر عملدرآمد بھی کیا گیا ہے، ہم نے 2013 سے 2018 کے دوران ملک میں معاشی بہتری کیلئے میثاق معیشت کے لئے بھی کوششیں کیں تاکہ معاشی ترقی کے لئے ایک روڈ میپ بن جائے اور اس میں بغیر کسی تبدیلی کے ہر حکومت عمل کرے اور اس کی گواہ قوم ہو۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ سندھ سمیت سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف کے مرحلے میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے 80 ارب روپے تقسیم کئے گئے جبکہ این ڈی ایم اے کے پاس ریلیف کا موجود سامان بھی تقسیم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف متاثرہ علاقوں میں گھروں اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے 16 ارب 30 کروڑ ڈالر درکار ہوں گے، ڈونر کانفرنس میں مختلف ممالک اور اداروں کی جانب سے امداد کے اعلانات کئے گئے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔