پنجاب حکومت نے حنا جاوید قتل کیس کے سلسلے میں ہائی پاورکمیٹی تشکیل دے دی۔
ذرائع کے مطابق ہائی پاورکمیٹی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے تشکیل دی جس کی سربراہی ڈی جی سی سی ڈی سہیل ظفر کرینگے،کمیٹی میں ڈی آئی جی لاہور اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن راولپنڈی بھی شامل ہونگے۔
ہائی پاور کمیٹی کیس کی تفتیش کا از سر نو جائزہ لے گی، سہیل ظفر کی سربراہی میں کمیٹی رواں ہفتے راولپنڈی کا دورہ کرے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فرانزک نمونوں کی رپورٹس بھی راولپنڈی پولیس نے وصول کرلی ہیں جس میں پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ بھی شامل ہے،ہائی پاور کمیٹی کی جانب سے حنا جاوید کے اہلخانہ سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔
حنا جاوید کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گردن کی ہڈی ٹوٹنے سمیت اہم انکشافات سامنے آئے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق 45 سال حنا جاوید کی گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی، مقتولہ کی پسلیوں اور کولہے کی ہڈی پر زخم کے نشان موجود تھے اور دل کے گرد خون جمع تھا۔
حنا جاوید کا پوسٹ مارٹم انتقال کے 12 گھنٹے کے بعد ڈاکٹر ماریہ خالد نے کیا۔
حنا جاوید قتل کیس کا پس منظر
45 سالہ حنا جاوید کی لاش 20 اگست کو راولپنڈی کے علاقے لال کرتی میں عسکری اپارٹمنٹس میں واقع ان کے گھر کے باتھ روم سے برآمد ہوئی تھی۔ پولیس اور دستیاب رپورٹ کے مطابق مقتولہ کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے، منہ پر کپڑا تھا جبکہ گردن میں تار بندھی ہوئی تھی جو باتھ روم کے شاور کے ساتھ باندھی گئی تھی۔
مقتولہ کے بھائی فہد جاوید کی مدعیت میں تھانہ سول لائن میں مقدمہ درج کیا گیا، جس میں حنا جاوید کے شوہر فیصل اصغر، سسر اصغر علی فیاض اور گھریلو ملازم ذیشان ارشد کو نامزد کیا گیا تھا۔ پولیس نے مقدمے کے بعد مقتولہ کے شوہر اور گھریلو ملازم کو گرفتار کیا جبکہ سسر کو بھی تفتیش میں شامل کیا گیا ہے۔
مقتولہ کے اہل خانہ نے واقعے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقدمے میں نامزد تمام افراد کے کردار کا تعین کیا جائے۔ خاندان کے مطابق حنا جاوید کو اپنے ہی گھر میں قتل کیا گیا اور گھریلو تشدد کو ذاتی یا خاندانی معاملہ نہیں بلکہ سنگین جرم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
