اسلام آباد:وفاقی وزیر قانون اعظم نذیرتارڑ نے کہا ہے کہ مذاکرات کیلئے پی ٹی آئی کو متعدد بار مواقع فراہم کیے گئے، لیکن اس طرف سے کوئی مناسب جواب نہیں ملا، بانی پی ٹی آئی کی رہائی عدالتی معاملہ ہے، عدالت سے رجوع کرکے رہا کرا لیں۔
اسلام آباد میں نیشنل فرانزک ایجنسی لیبارٹری کے دورے کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ شہروں پر چڑھائی کرکے مقاصد حاصل نہیں کئے جا سکتے، مذاکرات سے انکار نہیں کر رہے لیکن اس کیلئے سنجیدگی ضروری ہے۔
اعظم نذیر تارڑ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی نے اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے، اس کے علاوہ وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان امن و امان، دہشت گردی سے نمٹنے کی حکمت عملی اور صوبائی انتظامی معاملات پر اختلافات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اعظم نذیر نے کہا کہ اسلام آباد پر بار بار چڑھائی کی گئی، محفوظ پاکستان کیلئے محفوظ دارالحکومت ضروری ہے، پی ٹی آئی کے ماضی کے دھرنوں سے سب واقف ہیں، آپ نے دیکھا کہ مئی 2023 میں کیا ہوا اور نومبر 2024 میں کیا ہوا؟ یہ بتا دیں جو ماضی میں ہوا کیا وہ ٹھیک تھا؟۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے۔
گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کے دوران خیبر پختونخوا میں گورنر راج سے متعلق سوال پر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں آئین کے تحت گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی ضرورت پیدا ہوئی اور مقررہ آئینی شرائط پوری ہوئیں تو ایمرجنسی نافذ کی جائے گی۔
ایمرجنسی کے نفاذ کیلئے آئینی تقاضے مدنظر رکھیں گے
انہوں نے کہا تھا کہ ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق آئین میں طریقہ کار بالکل واضح ہے اور اس معاملے میں آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد لانگ مارچ کے اعلان کے بعد خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے کی باز گشت ہے۔ اس حوالے سے سہیل آفریدی اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور بھی بیانات دے چکے ہیں۔
احتجاج سے مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے، بانی پی ٹی آئی کو عدالت کے ذریعے رہا کرا لیں، اعظم نذیر
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
