اسلام آباد(سب نیوز)وفاقی ترقیاتی ادارے کی طرف سے سی ڈی اے کے ملکیتی گھروں کی مرمت اور بحالی کیلئے نئے ایس او پیز جاری کر دیے گئے،پہلی مرتبہ مرمت و بحالی کیلئے فنڈز کی حد مقرر کر دی گئی ،کیٹگری اے ،بی اور سی کے گھروں میں سول ورک کیلئے تین لاکھ جبکہ ای اینڈ ایم کیلئے 50ہزار روپے سے زیادہ خرچ نہیں کیے جا سکیں گے۔
،کیٹگری ڈی اور ای کے گھروں کے سول ورک کیلئے 4لاکھ جبکہ ای اینڈ ایم کیلئے ایک لاکھ نو ہزار روپے سے زیادہ خرچ نہیں کیے جا سکیں گے،کیٹگری ایف اینڈ جی کے گھروں کے سول ورک کیلئے 5لاکھ جبکہ ای اینڈ ایم ورک کیلئے ایک لاکھ پچاس ہزار روپے کی حد مقرر کی گئی ہے،سی ڈی اے کے فنانس ونگ کی طرف سے جاری تحریری احکامات کے مطابق فنڈز کی قلت کے باعث ہر سال گھروں کی مرمت و بحالی کا کام مکمل کرنا مشکل ہو رہا تھا،علاوہ ازیں مختص فنڈز کے موثر استعمال کو یقینی بنانے کیلئے نئے ایس او پیز جاری کیے گئے ہیں۔
،نوٹی فیکشن کے مطابق مختص فنڈز کے استعمال میں شفافیت کیلئے انجیرئنگ ونگ کی طرف سے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو حکومتی گھروں کی تعمیرو بحالی کے لیے فنڈز کا تخمینہ لاگت اور طریقہ کار طے کرے گی،اور یہ یقینی بنائے گی کہ تخمینہ لاگت کے حساب سے فنڈز کا بہترین استعمال کیا جائے، کمیٹی مخصوص کیسز کے حوالے سے رپورٹ چیئر مین سی ڈی اے کو بھیجے گی جس کی منظوری کے بعد فنڈز جاری ہو سکیں گے۔اضافی فنڈز کی منظوری بھی چیئر مین سی ڈی اے کی منظوری سے مشروط کر دی گئی ہے۔


