اسلام آباد (سب نیوز)سوشل میڈیا پر پولیس گاڑی سے ایک ریموٹ کنٹرول کار کے ٹکرانے کی وائرل ہونے والی ویڈیو کے معاملے کی وضاحت سامنے آگئی۔
ایس پی سٹی زون ڈاکٹر ایاز حسین نے نوجوان کے ہمراہ ویڈیو پیغام میں واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہاکہ واقعے کی مکمل انکوائری کی گئی ہے اور نوجوان کو قصوروار سمجھنے کے بجائے اسے پاکستان کا مستقبل سمجھا جا رہا ہے۔ایس پی سٹی زون ڈاکٹر ایاز حسین نے بتایا کہ ان کے ساتھ احسان ظفر عباسی موجود ہیں جو کامسیٹس یونیورسٹی کے کمپیوٹر انجینیئرنگ کے طالب علم اور تیسرے سمسٹر میں زیر تعلیم ہیں۔انہوں نے کہاکہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک گاڑی پولیس کی گاڑی سے ٹکراتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، جس کے بعد اس پر مخلتف تبصرے شروع ہوگئے، لیکن یہ ایک انسانی غلطی تھی۔
ایس پی سٹی زون نے کہاکہ اسلام آباد پولیس ایسے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کیونکہ یہ ملک کا سرمایہ اور پاکستان کا مستقبل ہیں۔اس موقع پر طالب علم احسان ظفر عباسی نے بتایا کہ وہ ایبٹ آباد کے رہائشی ہیں اور کامسیٹس یونیورسٹی ایبٹ آباد میں کمپیوٹر انجینیئرنگ کے طالب علم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وہ اس عملی شعبے میں قریبا 2 سال سے اپنے گھر میں ایک لیب بنا کر عملی کام کررہے ہیں۔احسان ظفر عباسی کے مطابق پولیس گاڑی سے ٹکرانے والی گاڑی ان کا پروجیکٹ تھا، جو انٹرنیٹ کے ذریعے چلنے والی ڈرائیور لیس کار ہے۔انہوں نے بتایا کہ وہ اسی منصوبے کے حوالے سے انٹرویو دینے اسلام آباد آئے تھے۔
احسان ظفر عباسی نے وائرل ویڈیو میں گاڑی کے پولیس کار سے ٹکرانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہاکہ انٹرویو کے دوران کیمرہ مین نے انہیں کہاکہ وہ گاڑی کو موبائل کیمرے میں دکھائیں۔ان کے مطابق جب وہ موبائل کیمرے پر گاڑی دکھانے کے لیے کوشش کررہے تھے تو دائیں جانب جانے کے بجائے بائیں جانب کا بٹن پریس ہوگیا۔ غلط بٹن دبنے کی وجہ سے گاڑی دائیں جانب جانے کے بجائے بائیں طرف چلی گئی اور اس کے نتیجے میں اسلام آباد پولیس کی گاڑی سے ٹکرا گئی۔انہوں نے کہاکہ واقعے کے بعد اسلام آباد پولیس نے ان کے ساتھ کافی تعاون کیا۔احسان ظفر عباسی نے بتایا کہ اگلے روز جب یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو اسلام آباد پولیس نے دوبارہ ان سے رابطہ کیا۔
انہوں نے ایس پی سٹی زون ڈاکٹر ایاز حسین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس سسٹم کو سمجھا اور معاملے کو سمجھنے کی کوشش کی۔ احسان ظفر عباسی نے کہاکہ وہ چاہتے ہیں کہ اس حوالے سے وہ پاکستانی نوجوانوں کے لیے ایک مثال بنیں۔واضح رہے کہ ایک روز قبل ایک ڈرائیور لیس کار اسلام آباد پولیس کی گاڑی سے ٹکرا گئی تھی، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مختلف تبصرے کیے جارہے ہیں۔
ڈرائیور لیس کار کی موبائل سے ٹکر، اسلام آباد پولیس کانوجوان کیخلاف کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ،نوجوان کو ملک کا مستقبل قرار دیدیا
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
