اسلام آباد(سب نیوز) صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سردار طاہر محمود نے سی ڈی اے کے شعبہ تعمیرات سے مطالبہ کیا ہے کہ اسلام آباد میں پلازوں اور کاروباری مراکز کی بغیر پیشگی نوٹس اور مناسب مشاورت کے یکطرفہ سیلنگ کا سلسلہ فوری طور پر روکا جائے اور کسی بھی کارروائی سے قبل متعلقہ کاروباری افراد کو قانون کے مطابق نوٹس اور اپنا مقف پیش کرنے کا مکمل موقع دیا جائے۔
اتوار کے روز ایک بیان میں سردار طاہر محمود نے کہا کہ کسی ایک واقعے یا خلاف ورزی کی بنیاد پر پورے پلازے یا متعدد کاروباروں کو نشانہ بنانا غیرمنصفانہ اور غیرمنطقی ہے۔ اگر کسی عمارت میں تعمیراتی ضوابط کی خلاف ورزی موجود ہے تو ذمہ دار فریق کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، تاہم کاروباری سرگرمیوں کو اچانک بند کرنا مسئلے کا مناسب حل نہیں۔انہوں نے کہا کہ بغیر نوٹس کاروباری مراکز کی سیلنگ سے اسلام آباد کی کاروباری برادری میں شدید تشویش، خوف اور بے یقینی پیدا ہو رہی ہے، جس سے کاروباری اعتماد کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری، روزگار اور معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دارالحکومت میں کاروباری ماحول کو مستحکم رکھنے کے لیے انتظامی اقدامات میں شفافیت اور ذمہ داری کا مظاہرہ ضروری ہے۔صدر آئی سی سی آئی نے کہا کہ سی ڈی اے کے شعبہ تعمیرات کو کارروائی سے قبل پلازہ مالکان، تاجروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ کاروباری افراد کو اپنی پوزیشن واضح کرنے، ضروری دستاویزات پیش کرنے اور قابلِ اصلاح خلاف ورزیوں کو دور کرنے کے لیے مناسب وقت دیا جائے تاکہ قانون کی پاسداری بھی ہو اور کاروباری سرگرمیاں بھی بلاوجہ متاثر نہ ہوں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ سی ڈی اے سیلنگ کی کارروائیوں کا فوری جائزہ لے، بلاجواز سیل کیے گئے کاروباری مراکز کے معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے اور ایک واضح، یکساں اور شفاف طریقہ کار اختیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی عملداری ضروری ہے، لیکن اس کے نفاذ میں انصاف اور مناسب طریقہ کار کو ہر صورت ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔سردار طاہر محمود نے واضح کیا کہ اسلام آباد چیمبر قانون کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی کا مخالف نہیں، تاہم کسی بھی کارروائی میں انصاف، شفافیت اور کاروباری برادری کے جائز حقوق کا تحفظ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی کاروباری برادری اپنے حقوق اور کاروبار کے تحفظ کے لیے متحد ہے اور سی ڈی اے حکام کے ساتھ بامعنی مشاورت کے ذریعے اس مسئلے کا منصفانہ اور قابلِ عمل حل چاہتی ہے۔
