Sunday, May 17, 2026
ہومکالم وبلاگزبلاگزالیکٹرانک ووٹنگ مشین وقت کی ضرورت

الیکٹرانک ووٹنگ مشین وقت کی ضرورت


تحریر: محمد حارث ملک زادہ
‎@HarisMalikzada
الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے مراد (جسے ای ووٹنگ بھی کہا جاتا ہے) وہ مشین جو بجلی کے ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے ووٹ کاسٹنگ اور ووٹوں کی گنتی کا کام کرتی ہے۔ووٹنگ مشین کمپیوٹرائزڈیا ڈیجیٹلی کسی بھی پولنگ سٹیشن پرجدید کمپیوٹرمشین سےشفافیت اور آسانی کے ساتھ ایک ووٹر اپنے پسندیدہ پارٹی کے امیدوار کو ووٹ ڈالتا ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین جس کی نگرانی سرکاری یا آزاد انتخابی ادارہ روایتی انتخاب کی طرح ہی کرتے ہیں فرق اتنا ہے یہ انتخابات کیلئے تیز ، آسان اور کم خرچ طریقہ ہے ۔
الیکٹرانک ووٹنگ مشین تین یونٹس پہلا کنٹرول یونٹ (پریزائیڈنگ افسرکے پاس ہوتاہے)، دوسرا بیلٹ یونٹ (پولنگ بوتھ میں جس پر امیدواران کے نام و نشان درج ہوتے ہیں)اور تیسرا کاغذی آڈٹ ٹریل یونٹ(ووٹ سلپ جاری کرتا ہے ) پر مشتمل ہےجو کھلونے یا کیلکو لیٹر کے مثل بیٹریوں پر چلتی ہے۔
الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے کام کرنے کا طریقے کار یہ ہے کہ کسی بھی پولنگ سٹیشن پر ایک ووٹر ووٹ ڈالنے کے لیے آئے گا تو روایتی طریقے کی طرح پریزائیڈنگ افسرکےپاس ووٹر لسٹ سے اس کی شناخت مکمل کرے گ ، پھر مشین پر بٹن دبائےگا جس سے ایک بیپ کال کی آواز آئے گئی مطلب مشین فعال ہوگئی ہے، اس کے بعدووٹر پولنگ بوتھ میں جاکر بیلٹ یونٹ پر اپنے پسندیدہ امیدوار کے نشان کا بٹن دبائے گا، ساتھ ہی آڈٹ ٹریل یونٹ سے ووٹ سلپ بمعہ امیدوار نشان پرنٹ ہوکر باہر نکل آئے گی جس کو ووٹر بیلٹ باکس میں ڈال دے گا، اسی کے ساتھ ہی ایک ووٹر کی ووٹ کاسٹ کا عمل 8 منٹ میں مکمل ہوجائے گا۔
الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے فوائد پر نظر ڈالتے ہیں کہ اس کا سب سے بڑا فائدہ صاف، شفاف اور غیر جانبدار بغیر کسی مداخلت اور دھاندلی کے انتخابات ہےجس کی پاکستان میں اتنہائی ضرورت ہے کیونکہ عام انتخابات ہویا ضمنی ، بلدیاتی ہو کنٹونمنٹ انتخابات ہارنے والی پارٹی فورا بے بنیاد دھاندلی کے الزام لگاکر ملک میں کئی کئی سال تک بدامنی پھیلائے رکھتی ہے ۔ ووٹ ضائع نہیں ہوتے ہیں کیونکہ 2018ء کے عام انتخابات میں 18 لاکھ ووٹ ضائع ہوگئےجو کہ اکثر دھاندلی میں شمار ہوتا ہے جس کے پیچھے کئی معاملات ہوتے ہیں جس میں عملہ یا ووٹر جان بوجھ کر یا انجانے میں ملوث ہوتے ہیں جس سے بھی انتخابات اثر انداز ہوتے ہیں، ان مشین سے ووٹ کا زیاں صفر ہوجائے گا۔ ہر انتخاب میں لاکھوں کروڑوں بیلٹ پیپرز کی چھپائی سے بچا جا سکتاہے ، اس کے نتیجے میں کاغذ ، پرنٹنگ ، نقل و حمل ، اسٹوریج اور تقسیم کی لاگت سے بڑی بچت ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ گنتی بہت تیز ہے اور نتیجہ روایتی نظام کے تحت اوسطا 24 گھنٹے کے مقابلے میں ایک سے دو گھنٹے کے اندر اعلان کیا جاسکتا ہے۔ ووٹ ڈالنے کا وقت میں غیر ضروری طویل نہیں ہوسکتا ، گنتی میں اضافی ووٹ نہیں ڈالی جاسکتی ہیں، ووٹوں کو غائب نہیں کیا جاسکتا ہے ، ایک ووٹر ایک ہی ووٹ ڈال سکے گا اور فارم 45 میں تبدیلی ممکن نہیں ہوسکے گی۔
اب الیکٹرانک ووٹینگ مشین کے محفوظ اور رازدار ی کے سوال پیدا ہوتے ہیں کہ سب سے پہلے کہ یہ مشین ایک عام یا سائنٹیفک کیکولیٹر کے یا ویڈیو گیمز کے مانند ہے، اس مشین میں کوئی انٹرنیٹ یا بلو ٹوتھ یا کوئی اور کونیکٹیوٹی پوڈ یا ذریعہ نہیں ہے اسی لیے ہیک نہیں ہوسکتی ہے، اس کے علاوہ ہر کمپیوٹرائزڈمشین سوفٹ ویئر یا پروگرام پر چلتی ہے اسی طرح بیلٹ پیپر ، ووٹر کی شناخت والی کوئی چیز درج نہیں ہوگئی، صرف بار کوڈ اور انتخابی نشان درج ہوگا، جس سے ووٹ کی رازداری قائم رہے گئی۔ پاکستان کی تیارکردہ مشینز واٹر اور گردو غبار پروف اور اونچائی یا سیڑھیوں سے گر جائے تو بھی کوئی نقصان نہیں ہوگا، مشین ایک دفعہ سِیلڈ ہے مطلب کہ ھول کر اس کے اندرچھیڑخانی یا تبدیلی نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ کھولنے کے بعد اس کو بند نہیں کرسکیں گےیہ ضائع یا متنازعہ ہوجائے گی۔
الیکٹرانک ووٹنگ مشین کادنیا میں پہلی دفعہ استعمال1996 ء میں برازیل میں ہوا تھا ،اگرہم دنیا کے مختلف ممالک کی طرف نظریں دوڑائیں تو چند ممالک کے علاوہ ہر ملک میں جمہوریت ہے وہاں حکومتوں کے انتخاب عوامی ووٹنگ کے ذریعے کیے جاتے ہیں جس کے لیے وہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کااستعمال کرتے ہیں ، الیکٹرانک ووٹنگ مشین استعمال کرنے والے ممالک مثلا آسٹریلیا ، بیلجیئم ، برازیل ، ایسٹونیا ، فرانس ، جرمنی ، بھارت ، اٹلی ، نمیبیا ، نیدرلینڈز ، ناروے ، پیرو ، سوئٹزرلینڈ ، برطانیہ ، وینزویلا ، اور فلپائن وغیرہ شامل ہیں، پاکستان واحد ملک نہیں ہوگا جہاں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال ہوگا الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال کرنے والے بیشتر ممالک کی مشین انٹرنیٹ سے منسلک ہے لیکن آج تک کسی بھی قسم کی ہیکنگ کی شکایت نہیں درج ہوئی ہےلیکن پاکستان کی مشین بیرونی کسی بھی کنکشن کے بغیر استعمال ہوں گی۔
پاکستان میں انتخاب کے لیے الیکشن کمیشن کو ساڑھے 3 لاکھ سے 4 لاکھ کے قریب الیکٹرانک ووٹنگ مشینز پورے ملک کے لیے چاہئے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے مطابق ایک دن میں 2000 مشینز بنانے کی صلاحیت پاکستان کی ہے۔
پاکستان میں الیکشن کمیشن اور اپوزیشن جس طرح سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے غیرمحفوط ہونے کے اعتراضات کررہے ہیں ان اعتراضات کو غلط ثابت کرنے کے لئے وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی نے پورے پاکستان کے آئی ٹی ماہرین اور اداروں کے مطلع کیا ہے کہ جو اس مشین کو غیر محفوظ یعنی ” ہیک” کرکے دے گا اس کو ایک ملین انعام دیا جائے گا میرے آرٹیکل لکھنے تک کوئی ایسا انسان سامنے نہیں آیا ہے کہ وہ ثابت کرسکے ، اسی لیے یہ تمام اعتراضات بے بنیاد ہیں اس کے پیچھے ان کے ذاتی و کرپٹ مفادات ہیں جس کے ضائع ہونے کے ڈر سے یہ لوگ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو مکمل ہی مسترد کررہے ہیں۔
ایک محب وطن عام پاکستانی شہری اور آئی ٹی کے طالب علم کے طور پر الیکشن کمیشن سے مطالبہ ہے کہ بغیر کسی سیاسی نظریہ و ذاتی مفاد اور کسی پارٹی کی حمایت کے منصفانہ اورغیر جانبدارانہ سوچ کے ساتھ ووٹ مشیں کو ایک دفعہ آزما کر دیکھا جائے جس سے یقیناَ انتخابات شفاف ہوگئے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔