Tuesday, April 14, 2026
ہومکالم وبلاگزپاکستان کی سفارتکاری اور عالمی استحکام کا راستہ

پاکستان کی سفارتکاری اور عالمی استحکام کا راستہ

تحریر۔۔سردار طاہر محمود

ملک کی سکیورٹی سے زیادہ کوئی چیز اہم نہیں ہے۔ ہمارے جوہری صلاحیت نے ہمیں ایک مضبوط دفاعی ڈھال دی ہے اور پچھلے سال مئی میں جو خلا نظر آئے تھے انہیں پورا کیا جا رہا ہے۔ لیکن اصل طاقت امن کیلئے اس ڈھال کو استعمال کرنے میں ہے۔ ایران اور امریکہ کی جنگ میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں اور عالمی منڈیاں لرز چکی ہیں۔ پاکستان نے اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کر کے اپنی سکیورٹی کو امن کا وسیلہ بنا دیا ہے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے 7 اپریل کو جنگ بندی کا اعلان کیا اور دونوں فریقوں کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان نے ایک سال سے واشنگٹن سے تعلقات بہتر کیے اور ایران کے ساتھ عملی روابط برقرار رکھے، جس کے نتیجے میں وہ واحد ملک بنا جس پر دونوں اعتماد کر سکتے ہیں۔ دارالحکومت کو سخت حفاظتی حصار میں رکھا گیا جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ان کی ٹیم یہاں پہنچی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب عالمی سفارت کاری میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی اور ایرانی رہنماں سے رات بھر رابطہ رکھا اور ایک ایسا منصوبہ تیار کیا جو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول سکتا ہے۔ یہ فوجی قیادت کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے بھی وعدہ کیا ہے کہ پاکستان جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ایران ان مذاکرات میں زخم خوردہ لیکن پرعزم داخل ہوا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق ایران ایک چھ ہزار سالہ تہذیب ہے جس کی بنیاد مضبوط تہذیبی اور نظریاتی جڑوں پر ہے۔ اس کا غیر مرکزی انتظامی نظام اور layered سکیورٹی ڈھانچہ اسے قیادت میں کمی کے باوجود چلتا رہنے کی صلاحیت دیتا ہے، جبکہ مذہبی اور قومی وحدت اسے مضبوط رکھتی ہے۔دوسری طرف امریکہ نے مذاکرات کی راہ اختیار کر کے قابل تعریف قدم اٹھایا۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے روانگی سے قبل کہا کہ مذاکرات مثبت ہوں گے اور اگر ایران نیک نیتی سے بات کرے تو واشنگٹن کھلا ہاتھ بڑھانے کو تیار ہے۔ یہ وہی حکومت ہے جس نے چند دن پہلے ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی دھمکی دی تھی، لہذا بات چیت کی میز پر آنا اہم پیش رفت ہے۔جنگ کا تسلسل عالمی معیشت کیلئے تباہ کن ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا کی تیل اور گیس کی 20 فیصد رسد رک گئی ہے اور یہ تاریخ کی بدترین توانائی بحران بن چکی ہے۔ توانائی اور کھاد کی قلت نے قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے اور خوراک کی فراہمی خطرے میں ہے۔ اسی لیے عالمی برادری کیلئے امن ناگزیر ہے۔ جنگ بندی سے معیشتوں کو فوری ریلیف ملے گا اور پھنسے ہوئے تیل و گیس کے جہاز دوبارہ چل سکیں گے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے درست کہا کہ اب یہ فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ ایران کی استقامت اور امریکہ کی آمادگی کو سمجھوتے سے ملانا ہوگا۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ مضبوط دفاع، مدبر قیادت اور سفارتکاری کے ذریعے دشمنوں کو بھی ایک میز پر بٹھایا جا سکتا ہے۔ اب ضروری ہے کہ تمام فریق جنگ بندی کو مستحکم کریں اور ایک ایسے امن کی بنیاد رکھیں جو سب کے وقار اور انصاف کو یقینی بنائے۔
(صاحب مضمون اسلام چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ہیں )

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔