ہومکالم وبلاگزبلاگز‏ ‏منگیترسے گفتگو۔۔ معاشرتی برائیوں کا پیش خیمہ

‏ ‏منگیترسے گفتگو۔۔ معاشرتی برائیوں کا پیش خیمہ

تحریر: فاطمہ بلوچ
‎@ZalmayX
ہمارے معاشرے میں اکثریت شادی سے پہلے منگیتر سے بات کرتی ہے، جب انہیں روکا جاتا ہے سمجھایا جاتا ہے تو جواب ملتا ہے کہ کبھی کبھی کرتے ہیں، کچھ کہتے ہیں کہ ہم حدود میں رہ کر بات کرتے ہیں، کچھ کہتے ہیں کہ شادی سے پہلے انڈرسٹینگ ہوجاتی ہے اس لیے کرتے ہیں، کچھ کہتے ہیں کہ اس کے بغیر دل نہیں لگتا شادی میں دیر ہے تو بات کرکے دل بہلا لیتے ہیں وغیرہ
یقین جانیں یہ تمام دلائل ذرہ برابر وزن نہیں رکھتے سیدھی بات ہے ہمارا اپنے نفس پر کنٹرول ہی نہیں ہے ہم خواہشات کے غلام بنے ہوئے ہیں، جو دل کہتا ہے وہ ہم کرتے ہیں، ضمیر کی آواز ہمیں نہیں آتی، کہتے ہیں منگیتر کے بغیر دل نہیں لگتا ارے یہی تو آزمائش ہے کہ اپنے نفس کو مار کر اپنی آگے کی زندگی بنانی ہے، یہی تو امتحان ہے کہ ہم اللہ کے حکم کو اوپر رکھتے ہیں یا اپنی دلی خواہشات کو پورا کرتے ہیں، جہاں 20 سے 25 سال انتظار کیا وہاں ایک دو سال انتظار کرنے میں کیا حرج ہے لیکن نہیں، ہم تو اپنے نفس کی مانیں گے۔ پھر ساری عمر ایک دوسرے کو طعنے دیں گے کہ شادی کے بعد بہت بدل ہوگئے ہو۔
ایک ساتھی نے کہا “انڈرسٹینڈنگ ہوجاتی ہے” جیسے کسی نرالی مخلوق سے نکاح ہونے جارہا ہے جو انڈرسٹینڈنگ کی انہیں ضرورت ہے، انڈرسٹینگ کے چکرمیں گاڑی کے اپنے گیئر پھنس جاتے ہیں اور لگانے پر بریک بھی نہیں لگتا نتیجہ کسی برے حادثہ سے کم نہیں نکلتا، خدارا۔ میرے بھایئوں، میری بہنوں جاؤ ذرا جا کر دیکھو معاشرے میں منگیتر کے نام پر کس قدر بے حیائی عام ہوچکی ہے، ہوٹلیں ریسٹرونٹس، کافی شاپس بھرے پڑے ہیں، کون ہے؟ جواب ملتا ہے آپ کی ہونے والی بھابھی۔ اور تو اور تحفے تحائف کی لین دین اعلی سطح پر جاری ہے، بڑا مہنگا اینڈرائڈ موبائل گفٹ کیا جارہا ہے، کڑھائی والا سوٹ بھیجا جارہا ہے اور کئی بار تو یہاں تک بات محدود نہیں ہوتی اور دونوں تمام حدود بھی پار کرلیتے ہیں۔
دراصل منگیتر سے بات کرنا تمام برایئوں کا زینہ ہے، پہلے بات ہوتی ہے کہیں گے صرف بات کرتے ہیں پھر دیکھنا دکھانا ہوگا، تصاویر بھیجی جایئں گی، پھر آہستہ آہستہ ایک دوسرے کے لیۓ تحفے خریدے جایئں گے، بات آگے بڑھے گی ملاقات کرنے کے مواقع ڈھونڈے جائیں گے۔ بات کرتے کرتے آہستہ آہستہ انسان دوسرے گناہوں کی طرف جانے لگتا ہے۔
اگر تم صرف موبائل پر ہی بات کرتے ہو نا تو یہ بھی تم خود اپنے منگیتر کو اپنے ہاتھ سے خراب کر رہے ہو، ساری شرم حیا ادب و آداب تم خود اپنے ہاتھ سے ختم کررہے ہو، نکاح کی برکتیں رحمتیں سب اپنے ہاتھ سے ختم کررہے ہو، جو لوگ نکاح سے پہلے موبائل فون پر باتیں کرتے ہیں نکاح کے بعد ان کی زندگی پر 100 فیصد اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں، شادی کے کچھ ہفتے بعد ہی تم خود محسوس کرو گے کہ بیوی عزت نہیں کرتی، کہنا نہیں مانتی، جو بات پہلے تھی وہ اب نہیں رہی، وہ ادب، وہ اخلاق، وہ پیار، وہ محبت، وہ وعدے، وہ قسمیں سب ہوا میں گم ہوجایئں گے۔ لہذا میرے بھایئوں اس چیز سے مکمل دور رہنا ہے،
فحاشی کے اس دور میں بھی خواہشات کے خلاف لڑتے رہے اور اب انکی زندگی خوب سے خوب تر ہونے کو ہے، خدا گواہ ہے کہ بے شمار برکتیں اور رحمتیں ان کے نکاح کا انتظار کررہی ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔