ڈھاکہ (سب نیوز )ایک طرف شیخ حسینہ واجد کی حکومت جانے پر بھارت میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے تو دوسری جانب عالمی برادری بھی اس معاملے پر کڑے نظر رکھے ہوئے ہے۔حسینہ واجد سے بھارتی وزیراعظم کے سکیورٹی مشیر اجیت دوول کی ملاقات کے بعد نئی دہلی میں مودی کی رہائش گاہ پر کابینہ کمیٹی برائے سکیورٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں بھارتی وزیرِ دفاع، نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اور وزیر خارجہ جے شنکر موجود تھے، بھارتی وزیرِ داخلہ اور وزیرِ خزانہ بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجیت دوول اور جے شنکر نے بنگلہ دیش کی صورتِ حال پر وزیراعظم اور کابینہ کو بریفنگ دی۔ دوسری جانب برطانیہ کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں جمہوریت کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر کے ترجمان نے آج پیر کو شیخ حسینہ نے بنگلہ دیش کی وزارت عظمی کے عہدے سے استعفا دے کر ملک چھوڑنے پر ردعمل دیتے ہوئے لندن میں صحافیوں کو بتایا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بنگلہ دیش میں جو تشدد ہم نے دیکھے ہیں وزیر اعظم سٹارمر اس سے شدید غمزدہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ جمہوریت کے تحفظ اور بنگلہ دیش کے عوام کی سلامتی اور امن کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے فوری کارروائی کی جائے گی۔خیال رہے کہ شیخ حسینہ واجد سیاسی پناہ کیلئے لندن جانے کا ارادہ رکھتی ہیں، لیکن اس سے قبل وہ بھارت پہنچی تھیں، جہاں انہوں نے ایک ضروری ملاقات کی۔
شیخ حسینہ واجد کے فرار ہونے اور فوج کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یورپی یونین نے پیر کو بنگلہ دیش میں جمہوری حکمرانی کی منظم اور پرامن منتقلی کا مطالبہ کیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے کہا کہ یورپی یونین پرسکون رہنے اور تحمل کا مطالبہ کرتی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ انسانی حقوق اور جمہوری اصولوں کے مکمل احترام کے ساتھ جمہوری طور پر منتخب حکومت کی طرف منظم اور پرامن منتقلی کو یقینی بنایا جائے۔
جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس معمالے پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے صرف اتنا کہا ہے کہ اہم ہے یہ ہے کہ بنگلہ دیش اپنے جمہوری راستے پر گامزن رہے۔امریکی سینیٹ میں اکثریتی رہنما چک شومر نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ان کی مسلسل حکمرانی ناقابل برداشت ہے، میں بہادر مظاہرین کی تعریف کرتا ہوں اور مقتولین کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتا ہوں۔ انہوں نے لکھا کہ ایک متوازن عبوری حکومت کا قیام بہت ضروری ہے جو سب کے حقوق کا احترام کرتی ہو اور تیزی سے جمہوری انتخابات کا انعقاد کرے۔
