اسلام آباد، : پاکستان اور جمہوریہ کوریا تکنیکی تعاون کے منصوبوں کے علاوہ ایروپونکس تکنیک کی مدد سے آلو کے بیج کی پیداوار پر کام کر رہے ہیں۔ ایروپونکس تکنیک کے زریعے آلو کے بیج کی پیداوار کو آگے بڑھانے میں کوپیا (KOPIA) اور پی اے آر سی (PARC) کے درمیان مشترکہ تعاون زرعی پیداوار میں انقلاب لانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس تعاون سے زرعی اختراع کے ایک نئے دور کا آغازہو گا اور روزگار کے بے شمار مواقع میسر آئیں گے۔ قومی زرعی تحقیقاتی مرکز میں آلو کے بیج کی کٹائی کے حوالے سے ایک پر وقار تقریب کا انعقاد کیا گیاجس میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق ،ڈاکٹر کوثر عبداللہ ملک، کوریا کے سفیر ، پاک کی جون (Park Ki Jun) اور پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر غلام محمد علی نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، ڈاکٹر کوثر عبداللہ ملک نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان میں آلو کی کاشت اور پیداوار میں ہونے والے مثبت اضافے پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایروپونک ٹیکنالوجی کو اپنانے سے نہ صرف آلو کی پیداوار میں اضافہ ہو گا بلکہ وائرس سے پاک بیجوں کی دستیابی کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔ ڈاکٹر کوثر عبداللہ ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان آلو کامحض 2% بیج مقامی طور پر تیار کر رہا ہے اور 98% درآمد کرنے پر انحصار کرتا ہے۔ اس جدید تکنیک کے نفاذ کے زریعے پاکستان آلو کے بیج کی پیداوار میں خود کفالت حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ڈاکٹر کوثر نے حکومت کے زرعی شعبے کو ترجیح دینے کے عزم کا اعادہ کیا اور پاکستان میں زرعی ترقی کے اقدامات کو آگے بڑھانے میں کوریا کی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔
اپنے خطاب میں جمہوریہ کوریا کی سفیر، پاک کی جون نے پاکستان اور کوریا کے درمیان باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور متعدد آنے والے منصوبوں پر روشنی ڈالی جومستقبل قریب میں شروع کیے جائیں گے۔ مزید برآں، انہوں نے پاکستانی پیشہ ور افراد کو زراعت میں تربیت کے مواقع فراہم کرکے دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا، جس کا مقصد ان کی مہارت اور صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے۔
پی اے آر سی کے چیئرمین ڈاکٹر غلام محمد علی نے پاکستان میں آلو کے بیج کی پیداوارکے لیے قائم کردہ پہلی ایروپونکس سہولت کی اہمیت کو اجاگر کیا ۔ ایروپونک ٹیکنالوجی کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر علی کا کہنا تھا کہ روایتی طریقوں سے صرف پانچ کے مقابلے میں فی پودا 50 سے 60 آلو کے بیج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ پاکستان اس وقت سالانہ 15,000 سے 20,000 ٹن آلو کے بیج درآمد کرتا ہے جس کی بنیادی وجہ کم معیار کا مقامی بیج ہے جسکی وجہ سے کسانوں پر معاشی دباو کے علاوہ پیداوار پر منفی اثر پڑتا ہے۔ انہوں نے لائیو سٹاک اور سمارٹ فارمنگ کے لیے 8 ملین ڈالر سے زائد مالیت کے آئندہ منصوبوں کا بھی اعلان کیا جن کا آغاز 2025 تک متوقع ہے۔ ڈاکٹر علی نے پاکستان کے زرعی شعبے میں تعاون پر جمہوریہ کوریا کا شکریہ ادا کیا۔
کوپیا پاکستان سنٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹرچو گیانگ رائے نے پانچ سالوں میں 160,000 ٹن تصدیق شدہ آلو کے بیج فراہم کرنے کے لیے جاری کوششوں پر روشنی ڈالی جس میں چار ایروپونکس گرین ہاوسز، 32 اسکرین ہاوسز کی تعمیر، اور اہداف کو پورا کرنے کے لیے کولڈ اسٹور اور 100 KW شمسی نظام کی فراہمی شامل ہے۔ ڈاکٹر چو نے اس حوالے سے کوپیا کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ پراجیکٹ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر عیش محمد نے آلو کی پیداواری لاگت کو کم کرنے، معیاری بیج کی پیداوار بڑھانے اور خود کفالت حاصل کرنے پر روشنی ڈالی۔
