راولپنڈی:
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ ڈویژن کے چیئرمین ملک ابرار احمد کی خصوصی اور انتھک کاوشوں سے راولپنڈی کینٹ کے باسیوں کا برسوں پرانا دیرینہ مسئلہ حل ہونے کی راہ پر گامزن ہو گیا ہے۔ کینٹ کے وسیع و عریض علاقوں میں گیس لیکج کے خطرناک حادثات اور کم پریشر کے مستقل خاتمے کے لیے مجموعی طور پر ایک ارب 16 کروڑ روپے کی خطیر لاگت کے میگا پراجیکٹ پر باقاعدہ عملی کام کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے لیے ملک ابرار احمد نے ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے نہ صرف فنڈز کی فراہمی یقینی بنائی بلکہ کینٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی سے باقاعدہ این او سی بھی منظور کرا لیا ہے۔
راولپنڈی کینٹ کے مختلف گنجان آباد رہائشی علاقوں میں دہائیوں قبل زیر زمین بچھائی گئی لوہے کی پائپ لائنیں انتہائی بوسیدہ ہو چکی تھیں، جس کے باعث نہ صرف آئے روز گیس لیکیج اور جان لیوا حادثات جنم لے رہے تھے بلکہ گیس کی ترسیل میں بھی شدید تعطل پیدا ہو رہا تھا۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی ملک ابرار احمد نے شہریوں کے اس سنگین مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر وزارت پیٹرولیم اور محکمہ سوئی گیس سمیت اعلیٰ ترین فورمز پر موثر انداز میں اٹھایا اور اس کے مستقل حل تک مسلسل پیش رفت جاری رکھی۔انہی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں پہلے مرحلے میں 70 کروڑ روپے کی لاگت سے زنگ آلود لوہے کی پائپ لائنوں کو ہٹا کر بین الاقوامی معیار کی پلاسٹک لائنیں بچھانے کی منظوری دی گئی۔
اس فیز کے تحت کینٹ کے مختلف علاقوں میں ایک اور دو انچ قطر پر مشتمل 70 کلومیٹر طویل نیا نیٹ ورک بچھایا جا رہا ہے، جس سے نصیر آباد، مغل آباد، سلمان آباد، الہٰ آباد، محلہ زمینداراں، چوہڑ چوک، کمال آباد، بکرا منڈی، ڈھوک مستقیم، سہام اور ملحقہ آبادیوں کو گیس لیکیج کے خطرات سے مستقل نجات ملے گی۔دوسری جانب، کینٹ کے رہائشیوں کو موسم سرما اور گرما دونوں میں درپیش لو پریشر کے دائمی مسئلے کو حل کرنے کے لیے 18 کروڑ روپے کی لاگت سے مصریال تا ڈھوک سیداں چوک 10 انچ قطر کی مین سپلائی لائن بچھائی جا رہی ہے۔ اس بڑی پائپ لائن کے مکمل ہونے سے ڈھوک سیداں کے دونوں اطراف واقع کینٹ کی متعدد آبادیوں میں گیس پریشر کی شکایت مکمل طور پر ختم ہو جائے گی اور صارفین کو چوبیس گھنٹے بلا تعطل گیس دستیاب ہوگی۔
منصوبے پر بغیر کسی رکاوٹ کے تیز رفتار پیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے ملک ابرار احمد نے راولپنڈی کینٹونمنٹ بورڈ کے ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) عامر رشید سے اہم ملاقات کی، جس میں کینٹ انجینئر نوید احمد، چیف انجینئر عتیق احمد، ڈپٹی چیف سوئی گیس محمد آصف، ملک ارسلان اور پراجیکٹ ڈیپارٹمنٹ کے سردار محمد اکرم بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران ملک ابرار احمد نے زور دیا کہ شہریوں کی مشکلات کے ازالے کے لیے اس منصوبے کا این او سی بلا تاخیر جاری کیا جائے، جس پر سی ای او عامر رشید نے فوری این او سی جاری کرنے کے احکامات دیے اور مکمل محکمانہ تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
عوامی سہولت اور شہری انفراسٹرکچر کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبے میں یہ اہم فیصلہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ کھدائی کے بعد سڑکوں کی فوری بحالی اور پیچ ورک کے لیے محکمہ سوئی گیس کینٹونمنٹ بورڈ کو 28 کروڑ روپے ادا کرے گا۔ اس اقدام سے لائن بچھانے کے بعد سڑکوں کی فوری مرمت ممکن ہو سکے گی اور شہریوں کو آمدورفت میں کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، جس پر کینٹ کے عوامی و سماجی حلقوں نے ملک ابرار احمد کی عوامی خدمات کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا ہے۔
