ہومکامرسوفاقی بجٹ میں ہوٹل انڈسٹری اور صنعتی شعبہ کو نذر انداز کیا گیا:اکرم فرید

وفاقی بجٹ میں ہوٹل انڈسٹری اور صنعتی شعبہ کو نذر انداز کیا گیا:اکرم فرید

اسلام آباد: ایمپلائرز فیڈریشن آف پا کستان کے چیرمین (سنٹرل) اور پاکستان ہوٹل ایسوسی ایشن سینئر وائس چیرمین میاں اکرم فرید نے وفاقی بجٹ پر اظہار ِ خیال کرتے ہویے کہا کہ بجٹ میں بزنس کمیونٹی کی تجاویز شامل نہیں کی گئیں۔ اور اسپیشل ہوٹل انڈسٹری اور صنتعتی شعبہ کو بجٹ میں نطر انداز کیا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ مینوفیکچرنگ انڈسٹری اور ہاسپیٹلٹی شعبہ جس سے کروڑوں افراد کا روزگار وابسطہ ہے ، اور ملکی ریونیو میں اہم حصہ ہے ، اُسے اس بجٹ میں کوئی ریلف نہیں دیا گیا، انہوں نے کہا کہ کہ سب سے زیادہ زراعت اور آئی ٹی سیکٹر ، ایس ایم ای اور سولز پر فوکس کیا گیا ہے۔ جو کہ خوش آئند بات ہے ، ۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبے کے لیے انرجی ٹیرف بہت زیادہ ہے جس کے نتیجے میں کاروبار کرنے کی لاگت میں اضافہ اس شعبے کو توانائی کے موثر آلات استعمال کرنے پر مجبور کر رہا ہے لیکن ڈیوٹیوں اور ٹیکسوں میں اضافہ کیا گیا ہے جو مایوس کن ہے۔۔انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ میں مہنگائی پر قابو پانے کا کوئی حل نہیں بتایا گیا، ۔ وفاقی حکومت موجودہ معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کاروباری طبقہ کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے بجٹ میں کوئی خاطرخواہ اقدامات نہیں اٹھائیں،
انھوں نے کہا کہ اشیا خورد و نوش، تیل، گیس، بجلی کے نرخ میں کوئی کمی نہیں کی گئی، بنیادی اشیائے ضروریہ پر سیل ٹیکس کی شرح قائم رکھی گئی ہے، جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا، اور لوگوں کی مشکلات بڑھیں گی

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔