اسلام آباد(سب نیوز)سابق وزیر اعظم عمران خان کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت شروع ہوگئی ۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس بابر ستار، جسٹس طارق محمود جہانگیری بینچ میں شامل ہیں۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ہم نے آپ کا بیان حلفی پڑھا ہے، کچھ اور کہنا چاہتے ہیں؟
بادی النظر میں یہ توہین عدالت تھی، تاہم عمران خان کے رویے پر عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم کر رہے ہیں، توہین عدالت کیسسز میں ہم بہت احتیاط کرتے ہیں، عمران خان کا ڈسٹرکٹ کورٹس جانا اور یہاں پر معافی مانگنا بہتر ہے، ہم تمام ججز نے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم کریں۔
عدالت نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس خارج کردی۔
واضح رہے تین روز قبل سابق وزیرِ اعظم عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چوہدری کی عدالت میں پہنچ گئے تھے۔ کمرہ عدالت میں عمران خان نے کہا کہ میڈم زیبا کو بتانا ہے کہ عمران خان معذرت کرنے آئے تھے، اگر کسی الفاظ سے دل آزاری ہوئی ہو تو۔
عدالت کے عملے نے انہیں بتایا تھا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ زیبا چوہدری رخصت پر ہیں، عمران خان نے ریڈر سے کہا کہ آپ نے زیبا چوہدری صاحبہ کو بتانا ہے کہ عمران خان آئے تھے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے ریڈر سے کہا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ زیبا چوہدری سے معافی مانگنے آیا ہوں، ریڈر آپ گواہ رہنا، میں آیا تھا معافی مانگنے۔

