اسلام آباد(سب نیوز)آئی ایم ایف کی کڑی نگرانی میں بننے والا وفاقی بجٹ 2022/23 آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا،
وفاقی بجٹ میں 4000 ارب روپے سے زائد کے خسارے کا تخمینہ،قومی اسمبلی میں پیش کرنے سے پہلے وفاقی کابینہ بجٹ کی منظوری دیگی،وفاقی بجٹ کا حجم 9500 ارب روپے رکھنے کی تجویز،وفاق اور صوبوں کا مجموعی میزانیہ 12 ہزار 992 ارب روپے تجویز ہے۔
بجٹ میں 525 ارب روپے کے ٹیکس اقدامات،بڑی گاڑیاں اور کریڈٹ کارڈ ہولڈرز پر ٹیکسوں کی شرح میں اصافہ،نان فائلر کیلئے بھی ٹیکس شرح بڑھانے کی تجویز ہے ،ایف بی آرسینکڑوں اشیاء کی درآمد پر ٹیکس اور ڈیوٹی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز،انفارمیشن ٹیکنالوجی زون میں سرمایہ کاری پر پانچ سے دس سال کی ٹیکس چھوٹ تجویز،دفاعی اخراجات کیلئے 1586 ارب روپے مختص کرنے کی تجویزہے
قومی سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے 2184 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز،وفاق منصوبوں کیلئے 800 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز،صوبوں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم 1384 ارب روپے ہو گا،انفراسٹرکچر منصوبوں کے لئے 433 ارب روپے رکھنے کی تجویز،مواصلات کے منصوبوں کے لئے 227 ارب روپے رکھنے کی تجویز،سماجی شعبہ کیلئے 144 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز،توانائی کے شعبہ کیلئے 84 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز،پانی کے منصوبوں کیلئے 83 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
مہنگائی کا ہدف 11.5 فیصد مقرر کرنے کی تجویز،آئی ایم ایف کے دباؤ پر بجلی اور گیس پر دی جانے والی سبسڈی میں کمی کی تجویزدی گئی ہے۔جبکہ وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام بحال نہ ہونے کی وجہ سے بجٹ سازی میں مشکات کا سامنا رہا،
آئی ایم ایف کے ساتھ بجٹ سازی پر مشاورت کی گئی،آئی ایم ایف کا بجٹ میں 750 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کیلئے دباؤ ایف بی ار کو اگلے سال کے بجٹ میں 1125 ارب روپے اضافی ٹیکس جمع کرنا ہوں گے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں 10 فیصد تک اضافہ متوقع ہے، آئی ایم ایف کو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے پر رضامند کر لیا گیا۔
