ہومپاکستانخیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا تعلق معدنیات سے جوڑنا افسوسناک، پی ٹی آئی کی لوٹ مار کے شواہد جلد سامنے لائیں گے، طارق فضل چوہدری

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا تعلق معدنیات سے جوڑنا افسوسناک، پی ٹی آئی کی لوٹ مار کے شواہد جلد سامنے لائیں گے، طارق فضل چوہدری

اسلام آباد (سب نیوز)وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ بڑے بوجھل دل کے ساتھ کیا گیا اور یہ وفاقی حکومت کے پاس آخری آپشن تھا۔ صوبے میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے، کیونکہ قیام امن کے بعد ہی خیبرپختونخوا میں تعمیر و ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو معدنیات کے معاملے سے جوڑنا افسوسناک ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور سب جانتے ہیں کہ اس جنگ میں کتنے جوان شہید ہوئے۔انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے کہا کہ ان کا اپنا ضلع بھی دہشتگردی سے متاثر ہے، جبکہ مولانا فضل الرحمان خود بھی خودکش حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ایسے حالات میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وفاقی حکومت کو خیبرپختونخوا کے وزیراعلی سے دہشتگردی کے خلاف تعاون درکار تھا، لیکن انہوں نے مطلوبہ تعاون نہیں کیا۔ان کے مطابق خیبرپختونخوا کی حکومت دہشتگردی کی مذمت کرنے کے لیے بھی تیار نہیں تھی، جبکہ صوبے میں کرپشن کی داستانیں بھی زبان زد عام تھیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں تمام اختیارات گورنر کو منتقل کر دیے ہیں۔ ایمرجنسی کا نفاذ انتہائی مجبوری میں آخری راستے کے طور پر کیا گیا۔وفاقی وزیر نے خیبرپختونخوا میں معدنیات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوران معدنیات نکالنے کے لیے 4917 لائسنس جاری کیے گئے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ لائسنس اپنے ہی لوگوں کو جاری کیے گئے اور اس حوالے سے شواہد جلد سامنے لائے جائیں گے۔طارق فضل چوہدری نے ایک بار پھر کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے فیصلے کو معدنیات سے جوڑنا افسوسناک ہے۔طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وفاقی حکومت کی اولین ترجیح خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہے، جس کے لیے تمام معاملات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ان اضلاع میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی جائیں گی اور آپریشنز کے دوران مقامی آبادی کو نقل مکانی نہیں کرنا پڑے گی۔ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ اضلاع کی مقامی قیادت دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہوگی۔وفاقی وزیر کے مطابق یہ طے کر لیا گیا ہے کہ ان 12 اضلاع سے دہشتگردی کا خاتمہ کس طرح کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مانیٹرنگ کمیٹی میں شامل تمام افراد تجربہ کار اور منجھے ہوئے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔طارق فضل چوہدری نے مزید بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف بھی خیبرپختونخوا کا دورہ کریں گے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں امن و امان کی بحالی کے بعد تعمیر و ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔