کوئٹہ(آئی پی ایس ) بلوچستان کے ضلع خضدار کے دور دراز علاقے نال میں ہفتے کی شام نامعلوم مسلح افراد نے ایک ماربل فیکٹری پر حملہ کر کے وہاں کام کرنے والے 18 مزدوروں کو اغوا کر لیا۔ حملے کے دوران ایک مزدور فائرنگ سے زخمی ہوا جبکہ حملہ آور فیکٹری سے دو گاڑیاں اور ایک لوڈر بھی اپنے ساتھ لے گئے۔خضدار پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ خضدار شہر سے تقریبا 35 سے 40 کلومیٹر دور بیسار پہاڑی کے قریب پیش آیا جہاں نیشنل پارٹی کے سابق صوبائی وزیر سردار اسلم بزنجو اور ان کے بیٹے شاہ میر بزنجو کی ماربل فیکٹری واقع ہے۔
انکے مطابق ہفتے کو رات گئے درجنوں مسلح افراد گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر فیکٹری میں داخل ہوئے اور وہاں موجود مزدوروں کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ اس دوران ایک مزدور نے فرار ہونے کی کوشش کی تو حملہ آوروں نے اس پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں اسے ٹانگ میں گولی لگی۔زخمی مزدور کی شناخت راشد کے نام سے ہوئی ہے اور طبی ذرائع کے مطابق اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق اغوا ہونے والے مزدوروں کا تعلق خضدار کے مختلف علاقوں سے بتایا جا رہا ہے۔پولیس کے مطابق حملہ آور فیکٹری سے دو گاڑیاں اور ایک لوڈر بھی اپنے ساتھ لے کر فرار ہوگئے، اب تک کسی مسلح گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔واقعہ ایسے نازک موقع پر پیش آیا ہے جب گزشتہ روز ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک مسافر وین سے رخشان ڈویژن سے تعلق رکھنے والے 20 پولیس اہلکاروں کو اغوا کر لیا تھا۔ دونوں واقعات نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ مغوی مزدوروں کی جلد از جلد بازیابی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری ہیں۔
