ہومپاکستانطلبہ کی کردار سازی، اسلامی اقدار کا فروغ اور نوجوانوں کی فکری و علمی رہنمائی وقت کی اہم ضرورت ہے، ناظمِ جامعہ انجمن طلبہ اسلام بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا سب نیوز کو خصوصی انٹرویو

طلبہ کی کردار سازی، اسلامی اقدار کا فروغ اور نوجوانوں کی فکری و علمی رہنمائی وقت کی اہم ضرورت ہے، ناظمِ جامعہ انجمن طلبہ اسلام بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا سب نیوز کو خصوصی انٹرویو

اسلام آباد (خصوصی انٹرویو): ناظمِ جامعہ انجمن طلبہ اسلام، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، محمد علی بلالوی نے کہا ہے کہ عصرِ حاضر کے فکری، اخلاقی اور معاشرتی چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرتِ طیبہ اور تعلیمات کو اپنی انفرادی و اجتماعی زندگیوں میں عملی طور پر مشعلِ راہ بنایا جائے۔ نوجوان نسل کی دینی و اخلاقی تربیت، اسلامی اقدار سے وابستگی اور کردار سازی ایک مضبوط اور صالح معاشرے کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہیں۔

سب نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے محمد علی بلالوی نے کہا کہ انجمن طلبہ اسلام ایک ملک گیر طلبہ تنظیم ہے، جس کا بنیادی مقصد طلبہ میں اسلامی شعور بیدار کرنا، دینی و اخلاقی اقدار کو فروغ دینا اور انہیں سیرتِ رسول اکرم ﷺ کی روشنی میں زندگی گزارنے کی ترغیب دینا ہے۔ ان کے مطابق تعلیم کا مقصد صرف ڈگری کا حصول نہیں، بلکہ علم، کردار، شعور اور عملی زندگی میں مثبت تبدیلی پیدا کرنا بھی ہے۔

تنظیمی قیادت اور جمہوری انتخابی نظام

محمد علی بلالوی نے انجمن طلبہ اسلام کے تنظیمی ڈھانچے پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تنظیم میں باقاعدہ انتخابی نظام رائج ہے، جس کے تحت کارکنان اپنی محنت، صلاحیت اور تنظیمی خدمات کے ذریعے مختلف ذمہ داریوں تک پہنچتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی ایک کارکن کی حیثیت سے تنظیمی سفر کا آغاز کرتے ہوئے انتخابی عمل کے ذریعے مختلف مراحل طے کر کے اس وقت بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں ناظمِ جامعہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تنظیمی زندگی نوجوانوں میں نظم و ضبط، مشاورت، اجتماعی ذمہ داری، قیادت اور خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ طلبہ تنظیموں کا مثبت کردار اسی وقت مؤثر ثابت ہوتا ہے جب وہ نوجوانوں کی علمی، اخلاقی اور سماجی تربیت کے ساتھ ان کے مسائل کے حل کے لیے بھی سرگرم رہیں۔

طلبہ کے مسائل کا حل اور نئے طلبہ کی رہنمائی

جامعہ میں طلبہ کو درپیش مسائل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ انجمن طلبہ اسلام طلبہ کی آواز متعلقہ انتظامی حلقوں تک پہنچانے اور ان کے جائز مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ رہائش اور ہاسٹل سے متعلق مشکلات، تعلیمی مسائل اور جامعہ کے ماحول میں پیش آنے والی مختلف دشواریوں کے حل کے لیے طلبہ کی معاونت تنظیمی ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مختلف دور دراز علاقوں سے طلبہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد آتے ہیں۔ نئے شہر، نئے تعلیمی ماحول اور مختلف انتظامی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے انہیں رہنمائی اور معاونت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انجمن طلبہ اسلام نئے آنے والے طلبہ کو جامعہ کے ماحول سے متعارف کرانے، ان کی مشکلات سمجھنے اور انہیں تعلیمی و تنظیمی سرگرمیوں سے وابستہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

علمی، فکری اور تربیتی سرگرمیاں

محمد علی بلالوی کے مطابق انجمن طلبہ اسلام جامعہ میں طلبہ کی ہمہ جہت تربیت کے لیے مختلف علمی، فکری، دینی اور ہم نصابی سرگرمیوں کا اہتمام کرتی ہے۔ ان سرگرمیوں میں سیرت النبی ﷺ کانفرنسز، دروسِ قرآن، تربیتی نشستیں، سیمینارز، ورکشاپس، مطالعاتی حلقے، علمی مباحثے، آگاہی پروگرام، کھیلوں کے مقابلے اور ثقافتی سرگرمیاں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان سرگرمیوں کا مقصد طلبہ کو محض تعلیمی میدان تک محدود رکھنا نہیں، بلکہ ان میں مطالعے کا ذوق، تنقیدی و تحقیقی سوچ، مکالمے کا سلیقہ، برداشت، باہمی احترام اور معاشرتی ذمہ داری کا شعور پیدا کرنا ہے۔ ان کے بقول یونیورسٹی کا دور نوجوانوں کی شخصیت سازی کا اہم مرحلہ ہوتا ہے؛ اس دوران فراہم کی جانے والی مثبت فکری رہنمائی ان کی آئندہ زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔

قومی سطح پر اسلامی اقدار کا فروغ

قومی سطح پر انجمن طلبہ اسلام کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے محمد علی بلالوی نے کہا کہ تنظیم نے مختلف ادوار میں اسلامی اقدار، دینی شعائر اور سیرتِ رسول ﷺ کے پیغام کو قومی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے جدوجہد کی ہے۔ ان کے مطابق قومی اداروں میں قرآن کریم کی تلاوت اور نعتِ رسول مقبول ﷺ جیسی بابرکت روایات کا فروغ ایک قابلِ قدر عمل ہے، جو ہماری دینی و تہذیبی شناخت کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے قومی اسمبلی کی کارروائی کے آغاز میں تلاوتِ قرآن مجید اور نعت خوانی کی روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قومی اداروں میں اسلامی شعائر کے احترام اور فروغ کے لیے کی جانے والی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ایسی روایات کو محض رسمی کارروائی تک محدود رکھنے کے بجائے ان کے پیغام کو قومی زندگی، قانون سازی، طرزِ حکمرانی اور انفرادی کردار میں بھی نمایاں ہونا چاہیے۔

مغربی تہذیبی اثرات اور سوشل میڈیا کے چیلنجز

نوجوان نسل کو درپیش فکری و اخلاقی چیلنجز پر گفتگو کرتے ہوئے محمد علی بلالوی نے کہا کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ مصروفیات، غیر تنقیدی طور پر اپنائے جانے والے تہذیبی رجحانات اور اسلامی تعلیمات سے بڑھتا ہوا فاصلہ سنجیدہ توجہ کا متقاضی ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو جدید ذرائع ابلاغ سے مثبت استفادے کی تربیت دینے کے ساتھ قرآن و سنت، اسلامی تاریخ اور سیرتِ نبوی ﷺ سے ان کا تعلق مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی حقیقی شناخت محض نام یا ظاہری نسبت سے نہیں، بلکہ ایمان، علم، کردار، اخلاق اور عملی زندگی میں اسلامی تعلیمات کی پیروی سے قائم ہوتی ہے۔ اگر ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں قرآن کریم کی تعلیمات، دیانت داری، عدل، رواداری اور احساسِ ذمہ داری کو بنیادی حیثیت حاصل ہو تو معاشرے میں مثبت تبدیلی کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں۔

ذہنی سکون اور سیرتِ نبوی ﷺ سے وابستگی

ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کے بڑھتے ہوئے رجحان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں نوجوان مختلف معاشرتی، تعلیمی اور نفسیاتی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں روحانی وابستگی، عبادات، مثبت معاشرتی تعلقات اور سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں زندگی گزارنے کی کوشش انسان کو امید، مقصدیت اور قلبی اطمینان فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ذہنی صحت کے مسائل کو سنجیدگی سے سمجھنا اور ضرورت کے وقت مستند ماہرین سے مدد حاصل کرنا بھی اہم ہے۔ اسلامی تعلیمات سے وابستگی اور مناسب پیشہ ورانہ معاونت ایک دوسرے کے مخالف نہیں، بلکہ انسان کی مجموعی فلاح کے لیے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

نوجوانوں کے نام پیغام

گفتگو کے اختتام پر طلبہ اور نوجوان نسل کے نام اپنے پیغام میں محمد علی بلالوی نے کہا کہ نوجوان اپنی زندگیوں کا مقصد متعین کریں، علم و مطالعے کو معمول بنائیں، اپنی صلاحیتوں کو معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کریں اور نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو اپنی عملی زندگی کا محور بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بحیثیت فرد اور قوم اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ محض اسلامی اقدار سے وابستگی کا دعویٰ کافی نہیں، بلکہ ان اقدار کو اپنے اخلاق، معاملات، تعلیمی سرگرمیوں، معاشرتی رویوں اور قومی ذمہ داریوں میں ظاہر کرنا ضروری ہے۔

محمد علی بلالوی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انجمن طلبہ اسلام طلبہ کی دینی و اخلاقی تربیت، علمی و فکری نشوونما، جائز مسائل کی نشاندہی اور سیرتِ رسول اکرم ﷺ کے پیغام کو عام کرنے کے لیے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گی۔ ان کے بقول ایک بہتر معاشرے کی تشکیل کا راستہ علم، کردار، خدمت اور تعلیماتِ نبوی ﷺ پر عملی استقامت سے ہو کر گزرتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔