وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نےآج لکی مروت سے لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ انشاء اللہ آج گنڈی چوک لکی مروت سے لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کریں گے،دن ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سےٹانک، ڈی آئی خان کی عوام لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے،ساؤتھ و نارتھ وزیرستان بنوں اور لکی مروت کی عوام لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے۔
سہیل آفریدی نےکہا کہ رات کو یہ قافلہ کرک کے قریب پہنچ کر پڑاؤ کرے گا، 5 اکتوبر دن 12 بجے کرک کے غیور عوام ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔
وزیراعظم کے مشیر برائےسیاسی امور رانا ثناءاللہ نے کہا ہےکہ حکومت پرامن رہے گی،لانگ مارچ کو اسلام آبادمیں داخل ہونےکی اجازت نہیں دی جائے گی،کسی بھی قسم کے انتشار کو قانون کی طاقت سے روکا جائے گا۔
راناثناء اللہ نےکہا بانی پی ٹی آئی کی ملاقات،علاج معالجے سے متعلق باتیں چھوٹی باتیں تھیں، اگر دہشتگردی کیخلاف جنگ میں کردار ادا کرنے کو تیار ہوں تو وہ کل آجائیں،دہشت گردی پرتعاون پر تیار ہوں تو دوبارہ مذاکرات ہوسکتے ہیں،فی الحال مذاکرات کا کوئی وقت مقرر نہیں ہوا۔
دوسری جانب چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر نے کہا انائیں آڑے آگئیں،کبھی کبھی اناؤں کو جانے دینا چاہیے،کےپی میں ایمرجنسی یاگورنر راج سےمزید حالات خراب ہونگے،سیاست میں حرف آخر کچھ نہیں، دہشتگردی والےمعاملے پر ڈیڈلاک تھا،ہم اپنی کوشش جاری رکھیں گے۔
مزیدکہا چاہتے تھےمذاکرات کامیاب ہوں ،جن چیزوں کے لئے ہم بیٹھے تھے وہ نہیں ہوسکا،لانگ مارچ برقرار ہےلانگ مارچ کی آڑمیں کوئی ایسے اقدامات نہیں کرنے چاہیں جس سے صوبے کے عوام میں نفرت پیدا ہو،سیاست میں کوئی چیز آخر نہیں ہوتا،لانگ مارچ کاجواب ایمرجنسی اور گورنرراج کا نفاذ نہیں۔
