ہومبریکنگ نیوزآئی سی سی آئی 25 ستمبر کو ’’اسلام آباد گورننس اینڈ پروونشل اسٹیٹس کنونشن‘‘ منعقد کرے گا

آئی سی سی آئی 25 ستمبر کو ’’اسلام آباد گورننس اینڈ پروونشل اسٹیٹس کنونشن‘‘ منعقد کرے گا

اسلام آباد: اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے اعلان کیا ہے کہ آئی سی سی آئی 25 ستمبر 2026 کو ’’اسلام آباد گورننس اینڈ پروونشل اسٹیٹس کنونشن 2026‘‘ منعقد کرے گا، جس کا مقصد وفاقی دارالحکومت کے مستقبل کے گورننس ڈھانچے اور آئینی حیثیت کے حوالے سے ایک جامع، بامعنی اور وسیع البنیاد مشاورت کا آغاز کرنا ہے۔

چیمبر ہاؤس میں منگل کو ایک بھرپور پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سردار طاہر محمود نے کہا کہ اسلام آباد آج بھی بنیادی طور پر 1960 کے آرڈیننس کے تحت چلایا جا رہا ہے، جو اس وقت بنایا گیا تھا جب وفاقی دارالحکومت ایک نیا اور بڑی حد تک غیر ترقی یافتہ شہر تھا۔ آج اسلام آباد کی آبادی تقریباً 25 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ شہری ضروریات، انفراسٹرکچر اور سروسز کا دائرہ کئی گنا بڑھ چکا ہے، اس لیے موجودہ نظام شہر کی بڑھتی ہوئی انتظامی، شہری اور عوامی خدمات کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں رہا۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے شہریوں کے پاس صفائی، پانی کی فراہمی، ٹریفک مینجمنٹ، انفراسٹرکچر، ٹیکسز، میونسپل سروسز اور دیگر شہری مسائل کے حوالے سے جواب طلبی کے لیے کوئی ایسا منتخب اور بااختیار فورم موجود نہیں جو براہِ راست عوام کو جوابدہ ہو۔ اسلام آباد کے اراکین قومی اسمبلی بھی کئی اہم شہری معاملات کے حوالے سے براہِ راست انتظامی اختیار نہیں رکھتے، جبکہ مختلف وفاقی اور انتظامی اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کے باعث جوابدہی کا واضح نظام موجود نہیں۔

سردار طاہر محمود نے کہا کہ 2021 سے اسلام آباد میں منتخب میئر کا نہ ہونا بھی موجودہ بلدیاتی نظام کی کمزوریوں کو نمایاں کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے شہریوں کو ایک ایسے گورننس نظام کی ضرورت ہے جس میں عوام کی نمائندگی، اختیارات اور جوابدہی ایک واضح نظام کے تحت منسلک ہوں۔

انہوں نے کہا، ’’اسلام آباد کو صرف میئر کی نہیں بلکہ ایک ایسے چیف ایگزیکٹو کی ضرورت ہے جو عوام کے ووٹ سے منتخب ہو اور اپنے منتخب نمائندوں کے سامنے جوابدہ ہو۔‘‘

آئی سی سی آئی صدر نے اسلام آباد کے لیے ایک شفاف اور واضح مالیاتی نظام (Fiscal Framework) تشکیل دینے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں مختلف ٹیکسز اور فیسیں وصول کی جاتی ہیں، تاہم وفاقی دارالحکومت کے لیے ایسا واضح قانونی اور مالیاتی فارمولہ موجود ہونا چاہیے جو اس کی آبادی، انتظامی ذمہ داریوں، شہری ضروریات اور وسائل کے مطابق ہو تاکہ شہر کی ترقی اور شہری خدمات کے لیے مناسب مالی وسائل یقینی بنائے جا سکیں۔

سردار طاہر محمود نے کہا کہ اسلام آباد کے حوالے سے اس وقت مختلف گورننس ماڈلز اور قانونی فریم ورک زیر بحث ہیں، تاہم جن لوگوں اور اداروں پر یہ انتظامی نظام لاگو ہونا ہے، ان سے بامعنی اور وسیع البنیاد مشاورت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کے تحت 25 ستمبر کو منعقد ہونے والے کنونشن میں کاروباری برادری، تاجر تنظیموں، بار کونسلز و بار ایسوسی ایشنز، سول سوسائٹی، اکیڈمیا، پروفیشنلز اور اسلام آباد کے رہائشیوں سمیت تمام اہم اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر مدعو کیا جائے گا تاکہ وہ اپنی آراء، تجاویز اور عملی سفارشات پیش کر سکیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کنونشن میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اسی طرح تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے سیاسی نمائندوں کو بھی شرکت کی دعوت دی جائے گی تاکہ اسلام آباد کے گورننس کے معاملے پر سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر وسیع تر قومی اور شہری مکالمہ کیا جا سکے۔

سردار طاہر محمود نے واضح کیا کہ آئی سی سی آئی ایک غیر سیاسی اور غیر جماعتی پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارا مقصد کسی سیاسی جماعت یا کسی مخصوص گورننس ماڈل کی حمایت یا مخالفت کرنا نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ تمام اسٹیک ہولڈرز ایک جگہ بیٹھیں، اپنی آراء پیش کریں اور اسلام آباد کے مستقبل کے گورننس کے لیے ایک بامعنی اور قابلِ عمل روڈ میپ تشکیل دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔‘‘

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔