ہومکالم وبلاگزجب محبت نے سرحدیں عبور کیں

جب محبت نے سرحدیں عبور کیں

سیاست کو عموماً ایک ایسی دنیا سمجھا جاتا ہے جہاں قومی مفادات، عوامی ذمہ داریاں اور سیاسی روایات کسی رہنما کی زندگی کے تقریباً ہر پہلو پر غالب رہتی ہیں۔ مگر سیاسی شخصیات کی نجی زندگیاں کبھی کبھی تاریخ کا وہ دل چسپ باب بھی سامنے لے آتی ہیں جو پارلیمان، انتخابات اور حکومتوں کی ہنگامہ خیزی سے کہیں آگے ہوتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بھی ایسے کئی قابلِ ذکر رہنما گزرے ہیں جن کی زندگیاں بیرونِ ملک پیدا ہونے والی یا غیر ملکی قومیت رکھنے والی خواتین سے ازدواجی رشتوں کے ذریعے وابستہ رہیں۔

برصغیر کے ابتدائی سیاسی ادوار سے لے کر آج کے پاکستان تک، پاکستانی سیاسی رہنماؤں اور غیر ملکی یا غیر ملکی نژاد خواتین کے درمیان ہونے والی شادیاں وقتاً فوقتاً عوامی توجہ کا مرکز بنتی رہی ہیں۔ بعض رشتوں نے قومی سرحدوں کو عبور کیا، بعض نے مذہبی، تہذیبی اور معاشرتی فاصلے مٹا دیے۔ یہ شادیاں محض دو افراد کا باہمی تعلق نہیں تھیں بلکہ ان میں ایک ایسے پاکستان کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے جس کی سیاسی اشرافیہ، اپنی قومی شناخت کے باوجود، ہمیشہ وسیع تر عالمی تہذیب و ثقافت سے جڑی رہی ہے۔

اس داستان کا ایک اہم باب ملک کے بانی، قائداعظم محمد علی جناحؒ سے شروع ہوتا ہے۔ قائداعظم نے 19 اپریل 1918ء کو رتن بائی ’’رُوتی‘‘ پیٹی سے شادی کی۔ رُوتی بمبئی کے معروف پارسی پیٹی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور شادی سے قبل انہوں نے اسلام قبول کیا۔ قائداعظم اکیڈمی کے ریکارڈ کے مطابق قائداعظم نے اس وقت تک شادی کا فیصلہ مؤخر رکھا جب تک رُوتی کی عمر اٹھارہ برس نہ ہو گئی، اگرچہ ان کے والد سر ڈنشا پیٹی اس شادی کے سخت مخالف تھے۔ تاہم تاریخی اعتبار سے رُوتی کو غیر ملکی خاتون قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ وہ بمبئی میں پیدا ہوئی تھیں اور اس زمانے میں بمبئی برطانوی ہندوستان کا حصہ تھا۔ لہٰذا قائداعظم اور رُوتی کی شادی بنیادی طور پر پاکستان اور کسی غیر ملکی ریاست کے درمیان ازدواجی تعلق نہیں بلکہ ایک غیر معمولی بین المذاہب اور بین الجماعتی رشتہ تھا۔ اس کے باوجود یہ قائداعظم کی زندگی کے ان یادگار ابواب میں شمار ہوتا ہے جن میں محبت، اختلاف، سماجی بندشوں اور ذاتی آزادی کی کئی کہانیاں ایک ساتھ سمٹ آتی ہیں۔

اسی نوعیت کی ایک دل چسپ مثال پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان اور بیگم رعنا لیاقت علی خان کی ازدواجی زندگی ہے۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان 1905ء میں برطانوی ہندوستان کے علاقے المورا میں ایک کمونی خاندان میں شیلا آئرین پنت کے نام سے پیدا ہوئیں۔ ان کا خاندان اصل میں برہمن پس منظر رکھتا تھا، تاہم بعد ازاں عیسائیت اختیار کر چکا تھا۔ انہوں نے اسلام قبول کیا اور 1933ء میں لیاقت علی خان سے شادی کی۔ بیگم رعنا محض وزیر اعظم کی اہلیہ بن کر محدود نہیں رہیں بلکہ انہوں نے سماجی خدمت، سفارت کاری اور قومی زندگی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ پاکستان کی ممتاز خاتونِ اول بنیں اور ان کی زندگی اس امر کی روشن مثال ہے کہ برصغیر کے سیاسی و سماجی منظرنامے میں مذہبی اور ثقافتی سرحدیں ہمیشہ ناقابلِ عبور دیواریں نہیں رہیں۔

غیر ملکی رشتے کی نسبتاً واضح مثال ذوالفقار علی بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو کی شادی ہے۔ نصرت اصفہانی 23 مارچ 1929ء کو ایران کے شہر اصفہان میں پیدا ہوئیں۔ ان کا تعلق ایک دولت مند ایرانی کرد خاندان، حریری خاندان، سے تھا۔ انہوں نے یونیورسٹی آف اصفہان میں تعلیم حاصل کی اور کراچی میں ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات ہوئی۔ دونوں نے 8 ستمبر 1951ء کو شادی کی۔ بیگم نصرت بھٹو کی شخصیت وقت کے ساتھ محض ایک سیاسی رہنما کی اہلیہ تک محدود نہ رہی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے صدر اور پھر وزیر اعظم بننے کے بعد وہ خاتونِ اول کی حیثیت سے ان کے ساتھ کئی غیر ملکی دوروں پر گئیں۔ 1979ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالی اور خود ملک کی اہم سیاسی شخصیات میں شمار ہونے لگیں۔ وہ بینظیر بھٹو، میر مرتضیٰ بھٹو، میر شاہنواز بھٹو اور صنم بھٹو کی والدہ تھیں۔ یوں ان کی زندگی ایک ایسی داستان بن گئی جس میں ایران کی سرزمین سے اٹھنے والی ایک خاتون نے پاکستان کے سیاسی افق پر اپنا ایک مستقل نقش ثبت کیا۔

بھٹو خاندان میں غیر ملکی ازدواجی روابط کا یہ سلسلہ اگلی نسل تک بھی پہنچا۔ میر مرتضیٰ بھٹو نے جلاوطنی کے زمانے میں کابل میں افغان سفارت کار کی بیٹی فوزیہ فصیح الدین سے پہلی شادی کی۔ ان دونوں کی ایک بیٹی، فاطمہ بھٹو، ہوئی، تاہم بعد ازاں دونوں میں طلاق ہوگئی۔ اس کے بعد مرتضیٰ بھٹو نے غنویٰ ایتاوی سے شادی کی، جو لبنانی نژاد تھیں۔ لبنان کی خانہ جنگی کے باعث وہ وہاں سے نقل مکانی کرکے شام پہنچی تھیں جہاں وہ بیلے کی تدریس سے وابستہ تھیں۔ اس شادی سے ان کے ہاں ایک بیٹا، ذوالفقار علی بھٹو جونیئر، پیدا ہوا۔ اسی طرح شاہنواز بھٹو نے فوزیہ فصیح الدین کی افغان بہن ریحانہ فصیح الدین سے شادی کی۔ بھٹو خاندان کی ایک اور اہم شخصیت فاطمہ بھٹو کی شادی بھی ایک غیر ملکی شخص، امریکی نژاد گراہم بائرہ سے ہوئی، جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ یوں بھٹو خاندان کی تاریخ میں قومی سرحدوں سے آگے بڑھتے ہوئے کئی ایسے رشتے دکھائی دیتے ہیں جن میں ایران، افغانستان، لبنان، امریکہ اور پاکستان ایک دوسرے سے جڑتے نظر آتے ہیں۔

ایران سے ایک اور نمایاں تعلق پاکستان کے پہلے صدر اسکندر مرزا کی نجی زندگی میں دکھائی دیتا ہے۔ ان کی دوسری اہلیہ ناہید مرزا 1919ء میں ایرانی کرد اور اشرافیائی خاندان سے تعلق رکھنے والے گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کی اس سے قبل شادی ایک ایرانی فوجی اتاشی سے ہو چکی تھی۔ اسکندر مرزا اور ناہید مرزا نے 1954ء میں شادی کی، اور 1956ء سے 1958ء تک وہ پاکستان کی خاتونِ اول رہیں۔ بعض تاریخی حوالوں میں ان کا نسب بیگم نصرت بھٹو سے بھی ایک خاندانی تعلق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

پاکستان کے تیسرے وزیر اعظم محمد علی بوگرہ کی زندگی بھی ایک ایسے ازدواجی رشتے کی گواہ ہے جس نے اپنے زمانے میں خاصی بحث پیدا کی۔ ان کی دوسری اہلیہ عالیہ بیگم لبنانی خاتون تھیں، جن کا خاندان بعد میں کینیڈا میں آباد ہوگیا تھا۔ وہ بوگرہ کے سفارتی مشن سے وابستگی کے زمانے میں ان کے ساتھ کام کر چکی تھیں اور بعد ازاں وزیر اعظم کی سماجی سیکریٹری بھی رہیں۔ بوگرہ کے وزیر اعظم بننے کے بعد دونوں نے شادی کی۔ چونکہ وہ پہلے ہی شادی شدہ تھے، اس لیے یہ شادی اس دور میں اشرافیہ میں تعددِ ازدواج اور اس سے وابستہ سماجی و سیاسی بحث کا حصہ بن گئی۔ یوں یہ رشتہ بھی محض ایک نجی واقعہ نہ رہا بلکہ اپنے زمانے کے معاشرتی مباحث میں جگہ بنا گیا۔

حسین شہید سہروردی کی داستان تو اس حوالے سے مزید غیر معمولی ہے۔ وزیر اعظم سہروردی نے 1940ء میں ویرا ٹسچینکو سے شادی کی، جو روسی اداکارہ اور پولش نژاد تھیں اور ماسکو آرٹ تھیٹر سے وابستہ رہ چکی تھیں۔ تاریخی روایات کے مطابق انہوں نے یورپ میں انقلابی ہنگامہ آرائیوں کے باعث نقل مکانی کی اور بالآخر ہندوستان پہنچیں۔ انہوں نے اسلام قبول کیا اور بیگم نور جہاں کا نام اختیار کیا۔ سہروردی اور ویرا کے ازدواجی تعلق کا اختتام 1951ء میں طلاق پر ہوا۔ ویرا کی اپنی زندگی بھی ایک مکمل داستان تھی۔ ان کی زندگی میں انقلابی روس، یورپ کی سیاسی افراتفری، برطانوی ہندوستان اور پھر پاکستان—سب ایک دوسرے سے ملتے دکھائی دیتے ہیں۔ سہروردی سے ان کی شادی دراصل صرف دو انسانوں کا ملاپ نہیں تھی بلکہ یہ یورپی اور جنوبی ایشیائی تاریخوں کے ایک غیر معمولی سنگم کی مانند تھی۔

غیر ملکی نژاد خاتون کے پاکستانی وزیر اعظم کی اہلیہ بننے کی شاید سب سے نمایاں مثال فیروز خان نون اور وکٹوریہ ریخا کی شادی ہے۔ وکٹوریہ ریخا آسٹریا میں پیدا ہوئی تھیں اور بعد میں بیگم وقارالنسا نون کے نام سے معروف ہوئیں۔آسٹریا کی وفاقی وزارتِ یورپی و بین الاقوامی امور بھی انہیں آسٹریا میں پیدا ہونے والی اس خاتون کے طور پر شناخت کرتی ہے جو پاکستان کے وزیر اعظم فیروز خان نون کی اہلیہ بنیں۔ انہوں نے پاکستان کی سیاسی زندگی کے ساتھ ساتھ آسٹریا اور پاکستان کے تعلقات میں بھی قابلِ ذکر کردار ادا کیا۔ ان کی شادی 1945ء میں فیروز خان نون سے ہوئی۔ بعد ازاں وہ پاکستانی عوامی اور سیاسی زندگی میں سرگرم ہوئیں اور پاکستان کی قومی داستان میں ایک ایسی غیر ملکی نژاد شخصیت کے طور پر یاد رکھی گئیں جنہوں نے اس ملک کو محض اپنا مسکن ہی نہیں بلکہ اپنی زندگی کا مقصد بھی بنایا۔

جدید دور میں غیر ملکی ازدواجی تعلق کی سب سے زیادہ عالمی شہرت رکھنے والی مثال عمران خان اور جمائما گولڈ اسمتھ کی شادی ہے۔ عمران خان نے 1995ء میں پیرس میں جمائما سے شادی کی۔ جمائما معروف برطانوی سرمایہ کار جیمز گولڈ اسمتھ کی صاحبزادی تھیں۔ اس جوڑے کے دو بیٹے، سلیمان اور قاسم، ہیں۔ تقریباً نو برس پر محیط یہ ازدواجی رشتہ بعد ازاں طلاق پر ختم ہوا۔ عمران خان پہلے ہی ایک عالمی شہرت یافتہ کرکٹر اور عوامی شخصیت تھے، اس لیے ان کی شادی نے بین الاقوامی میڈیا اور پاکستانی عوام دونوں کی غیر معمولی توجہ حاصل کی۔

تاہم موجودہ دور میں ایک نام ایسا ہے جس کا ذکر کرتے ہوئے خاص احتیاط کی ضروری ہے اور وہ شخصیت بلاول بھٹو زرداری کی ہے۔حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا اور بعض ذرائع ابلاغ میں یہ اطلاعات گردش کرتی رہی ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری آسٹریا کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی کسی خاتون سے شادی کر سکتے ہیں۔ بعض رپورٹس میں گلوریا فان ہیبسبرگ کا نام بھی مبینہ دلہن کے طور پر پیش کیا گیا۔ لیکن بلاول بھٹو زرداری نے خود سوشل میڈیا پر ان خبروں کی تردید کی، جبکہ 29 اگست 2026ء کو پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور کراچی کے میئر، جو بلاول کے ترجمان بھی ہیں، مرتضیٰ وہاب نے بھی اس خبر کو ’’غلط اور بے بنیاد‘‘ قرار دیا۔ اب تک بلاول بھٹو زرداری یا ان کے خاندان کی جانب سے ایسی کسی منگنی یا شادی کی کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ چنانچہ انہیں پاکستانی سیاست دانوں کی ان شخصیات کی تاریخی فہرست میں شامل کرنا درست نہیں جنہوں نے غیر ملکی خواتین سے شادی کی ہو۔ وہ تاحال غیر شادی شدہ ہیں۔

یہ تمام شادیاں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کبھی بھی وسیع دنیا سے مکمل طور پر الگ تھلگ نہیں رہی۔ عالمگیریت کے موجودہ دور سے بہت پہلے ہی پاکستان کے سیاسی خاندان ایران، لبنان، روس، آسٹریا، برطانیہ، افغانستان اور دنیا کے دوسرے خطوں سے مختلف رشتوں کے ذریعے جڑے ہوئے تھے۔ مگر شاید اس پوری داستان کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ تاریخ کو حقیقت اور تجسس، دستاویزی شواہد اور افواہوں کے درمیان فرق کرنا آنا چاہیے۔ سیاسی شخصیات کی نجی زندگیاں ہمیشہ عوامی دلچسپی کا موضوع رہی ہیں، خصوصاً جب ان میں غیر ملکی خاندان، شاہی گھرانے یا عالمی شہرت رکھنے والی شخصیات شامل ہوں۔ لیکن ذمہ دارانہ تاریخی تحریر کا تقاضا ہے کہ مصدقہ واقعات کو قیاس آرائیوں سے الگ رکھا جائے۔

پاکستانی سیاسی رہنماؤں اور غیر ملکی نژاد خواتین کے یہ رشتے محض غیر معمولی شادیوں کی ایک فہرست نہیں۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا مختصر مگر معنی خیز باب ہیں جو ہمیں بتاتا ہے کہ ایک طرف اس ملک کی قومی شناخت اپنی جگہ مضبوط اور منفرد رہی، تو دوسری طرف اس کی سیاسی اور سماجی زندگی ہمیشہ ایک وسیع تر انسانی، تہذیبی اور بین الاقوامی منظرنامے کا حصہ بھی رہی ہے۔آخرکار تاریخ صرف پارلیمانوں کے ایوانوں، سیاسی جلسوں اور میدانِ سیاست میں نہیں لکھی جاتی؛ کبھی کبھی تاریخ انسانوں کے دلوں میں اترنے والے رشتوں، سرحدوں کو عبور کرنے والی محبتوں اور مختلف تہذیبوں کے باہم ملنے سے بھی اپنے نقوش چھوڑتی ہے۔ اور شاید یہی اس داستان کا سب سے خوب صورت پہلو ہے کہ سرحدیں نقشوں پر کھینچی جاتی ہیں، مگر انسانی رشتے اکثر نقشوں کی پابندی نہیں کرتے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔